تفہیماتِ ربانیّہ — Page 225
میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کا فرنہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہوجاتا ہے۔“ حضرت اقدس نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا :- یہ عجیب بات ہے کہ آپ کا فر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کا فر ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايَتِهِ۔یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں ایک خدا پر افتراء کرنے والا دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے الے حاشیہ پر رقمطراز ہیں :۔بلاشبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے۔سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دیکر مجھے کافر ٹھہراتا ہے اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے۔“ ( دیکھو حقیقت الوحی صفحہ ۱۶۳ حاشیہ) پھر اسی ذیل میں فرماتے ہیں :- میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو وہ مومن جانتے ہیں جنہوں نے مجھے کو کافر ٹھہرایا ہے۔پس میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا۔لیکن جن میں خود انہیں کے ہاتھ سے ان کی وجہ کفر کی پیدا ہوگئی ہے ان کو کیونکر مومن کہہ سکتا (225)