تفہیماتِ ربانیّہ — Page 222
نے آپ کو خیر البریہ کہا تو آپ نے فرمایا - ذاك ابراهيم عليه السلام کہ یہ ابراہیم کا مقام ہے۔(مسلم جلد ۲ فضائل ابراھیم الخلیل) اور بعض دوسرے مواقع پر تو آپ نے یہاں تک فرما دیا۔لَا تُفَضِّلُونِئ عَلَى يُونُسَ بْنَ مَتَّى لَا تُخَيَّرُونِي عَلَى مُوسى مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ فَقَدْ كَذَبَ (مشكوة باب ذکر الانبیاء) کہ مجھے یونس سے افضل نہ کہو، مجھے موسی پر فضیلت نہ دو، جو اپنے آپ کو یونس سے بہتر کہے وہ جھوٹا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر وضاحت سے کھول دیا تو آپ نے فرمایا۔آنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْر کہ میں آدم زادوں کا سردار ہوں (مشکوۃ المصابیح) پس اس قسم کے بیانات کو متضاد کہنا دیوانگی ہے۔الجواب الرابع - معترض پٹیالوی کا یہ اعتراض قرآن مجید اور احادیث سے عدم واقفیت بلکہ ان سے دشمنی پر مبنی ہے۔اگر اسے علم ہوتا تو وہ ہرگز یہ اعتراض نہ کرتا اور اسے اختلاف بیانی نہ قرار دیتا۔قرآن مجید حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے مَا كُنْتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَهُ نُورًا الآية (الشوری رکوع ۵) کہ تجھے اس کتاب کے اترنے سے پہلے کتاب اور ایمان کا علم نہ تھا کہ یہ کیا ہوتے ہیں ہم نے ہی اس کو ٹور بنایا ہے اور لوگوں کو اس کے ذریعہ ہدایت کرتے ہیں۔“ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا دستور العمل تھا؟ لکھا ہے كَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةً أهْلِ الْكِتَابِ فِيْمَا لَهُ يُؤْمَرُ بِه ( مسلم) جلد ۲ صفحه ۲۹۶ مطبوعہ مصر ) کہ آپ ان باتوں میں جن میں آپ مامور نہیں ہوتے تھے اور جن میں آپ پر وحی نازل نہ ہوئی تھی نزول وحی تک اہل کتاب سے موافقت کرتے تھے۔یعنی وہی کرتے اور اعتقاد ر کھتے جو اہل کتاب کرتے اور اعتقاد رکھتے تھے۔جب وحی نازل ہو جاتی تو آپ کا عمل اور اعتقا دوجی کے مطابق ہو جاتا تھا۔شریعت آہستہ آہستہ تئیس سال میں مکمل ہو گئی۔پھر لکھا ہے إِنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْراً ( بخاری شریف جلد اول صفحه ۱) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور بعد ازاں بیت اللہ الحرام کی طرف منہ (222)