تفہیماتِ ربانیّہ — Page 221
ب) میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا ؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقتربین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو مجر کی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۴۹-۱۵۰) غرض صرف اصطلاح میں معمولی سا فرق ہوا ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی کے بتانے سے نفس دعوی میں کوئی فرق نہیں ہوا بلکہ وہی امور ثلاثہ کا مجموعی مرتب آپ کا دعوی تھا۔ہاں پہلے آپ لوگوں کی اصطلاح کے مطابق (جسے آپ نے ۱۸۹۹ء میں اصطلاح اسلام کے نام سے بھی ذکر فرمایا ہے ) اس دعوئی کا نام محدث رکھتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے بتانے کے بعد آپ نے اس کا نام نبی فرمایا اور اسے اسلام کی اصطلاح، خدا کی اصطلاح اور نبیوں کسی اصطلاح قرار دیا۔لیکن حقیقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔چنانچہ ۱۹۰۶ ء کی کتاب ” تجلیات الہیہ میں بھی فرمایا کہ :- "" ” میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو۔جو غیب پر مشتمل ہو۔اس لئے خدا آنے میرا نام نبی رکھا۔“ (صفحہ ۲۶) بہر حال صرف نام کی تبدیلی ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بتانے سے۔کیا یہ اختلاف بیانی“ ہے؟ کیا یہ تضاد ہے؟ انصاف ! انصاف !! انصاف !!! یا درکھو اس قسم کے واقعہ کو دم اختلاف بیانی نہیں کہا کرتے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ باوجود یکہ آپ للعلمین نذیراً “ تھے مگر جب ایک لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۰ طبع دوم - سے چشمہ معرفت صفحه ۳۲۵۔سے الوصیت صفحه ۱۲ (221)