تفہیماتِ ربانیّہ — Page 216
کلام پر ہوتا رہا ہے جس سے زیادہ فصیح و بلیغ ناممکن محض ہے۔کیونکہ بعد دشمن بات کرے انہونی۔پس اے معترض پٹیالوی ! - كذب وما التكذيب منك ببدعة رسم تقادم عهده المتقدم امر چہارم۔مجھے ان لوگوں پر سخت حیرت ہے جو خدا کے محفوظ اور ابدی قانون ( قرآن مجید میں متعدد آیات کو منسوخ مانتے ہوں اور پھر وہ اختلاف بیانی“ کو بطور اعتراض پیش کرتے ہوں۔غیر احمدی فرقوں کا قاطبہ اعتقاد ہے کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا اور واجب العمل تھا مگر کسی دوسری آیت نے آکر اس حکم اور اس آیت کو منسوخ کر دیا۔ان لوگوں کا قرآن مجید پر یہ صریح ظلم ہے۔بے شک ہمارا دعویٰ اور یقین ہے کہ قرآن مجید کا ایک حرف ، ایک نقطہ بلکہ ایک شعشہ بھی منسوخ نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو بیسیوں آیات کو منسوخ مانتے ہوں وہ کس منہ سے اختلاف بیانی“ پر معترض ہوتے ہیں؟ ان لوگوں میں سے بعض نے پانسو آیات کو منسوخ قرار دیا اور بعض نے بیس پر اکتفاء کیا۔اس پر بہت کچھ بحث و تمحیص کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ایسے متبحر کو بھی لکھنا پڑا :- " عَلَى مَا حَرَّرْتُ لَا يَتَعَيَّنُ النَّسْخُ إِلَّا فِي خَمْسِ مَوَاضِعَ۔“ ( الفوز الكبير صفحه ۱۸ و۲۱) کہ میرے بیان کے مطابق صرف پانچ آیات منسوخ ہیں۔لیکن خدا کے جری حضرت مسیح موعود نے اس گرہ کو بالکل کھول دیا اور بتلایا کہ چونکہ ان لوگوں کو ان آیات کی حقیقت سے مطلع نہ کیا گیا تھا اسلئے انہوں نے ایسا خیال کیا اور نہ حقیقت یہ ہے کہ ایک بھی آیت منسوخ نہیں بلکہ الحمد سے لیکر والناس تک سارے کا سارا قرآن مجید تا قیامت قائم اور واجب العمل ہے۔میں دوسری طرف چلا گیا مجھے صرف یہ بتلانا مطلوب ہے کہ جو لوگ قرآن مجید تک میں اختلاف بیان مان رہے ہوں اُن کا حضرت مرزا صاحب کے کلام میں اختلاف بیانیاں‘ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کوئی بہت زیادہ تعجب خیز نہیں۔(216)