تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 190 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 190

ہی حاصل ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا لطیف پیرایہ میں اس مفہوم کو ادا فرمایا ہے۔آپ نے فرما یا مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ (مسلم جلدا صفحہ ۳۱ کتاب الایمان ) کہ جو مرتے وقت لا الہ الا اللہ کاعلم رکھتا ہے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔مگر دوسری احادیث بلکہ آیات قرآنی میں دیگر ایمانیات کی بھی تصریح کردی ہے۔گویا یہ بتایا کہ توحید بجز ان باتوں پر ایمان لانے کے ناقص ہے۔اور یہ باتیں بلحاظ ایمان مقصود بالذات نہیں بلکہ توحید کو مکمل کرنے والی ہیں اسلئے یہ بمنزلہ تو حید ہی ہیں۔خدا تعالٰی نے بھی فرمایا ہے مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔گویا آنحضرت کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔کیا یہ مقام ” بمنزله توحیدی“ سے بلند مقام نہیں؟ پھر آیت ان كنتم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران رکوع ۴) بھی مقام محمد سی کی رفعت شان پر گواہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب خدا نے چاہا کہ تا قیامت لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے ساتھ فقرہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ بھی پڑھا جائے اور توحید کامل کے لئے رسالت محمدی کا اقرار از بس ضروری ہے۔چونکہ حضرت مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل ہیں اسلئے آر کا ماننا بھی ضروری ہے۔اور جو شخص آپ کو رڈ کرتا ہے وہ گو یا اللہ تعالیٰ اور سید الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی رو کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا:- ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳) خلاصہ کلام یہ ہے کہ فقرہ بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيْدِئ “ حضرت مرزا صاحب کی رسالت پر گواہ ہے اور اس میں یہ بتلانا مدنظر ہے کہ آپ پر ایمان لانا ضروری ہے۔الجواب ۳- حضرت مرزا صاحب نے توحید الہی کے متعلق حسب ذیل تعلیم دی ہے جس سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک بِمَنزَلَةِ تَو حیدی کا کیا مطلب ہے۔فرماتے ہیں :- (۱) '' تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ 190)