تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 189 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 189

ہوتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبات اور مقاصد سے بھی مقدم کر لیتا ( تقریر مندرجہ الحکم ۱۰ را پریل ۱۹۰۷ ، صفحه ۹) ہے۔ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ الہام انتَ مِنِّي بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيدِى وَ تَفْرِيدِئُ کا مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیرے نام کو شہرت دونگا اور جہاں جہاں توحید کا ذکر ہوگا تیرا نام بھی ساتھ جائے گا کیونکہ تیرا مقصد و مدعا بھی یہی ہے کہ دنیا میں توحید پھیلے۔اس صاف مطلب کے ہوتے ہوئے نہ معلوم معترض نے کیوں اعتراض کر دیا ہے۔الجواب ۲۔بے شک اللہ تعالیٰ کی توحید و فرید بے مثل ہے کوئی اسکی صفات اور ذات کی طرح واحد و فرد و یگانہ نہیں کیونکہ خدا خود بے مثل ہے لیکن اگر کسی شخص کو کسی وجہ سے بمنزلہ توحید کہہ دیا جاوے تو توحید کے بے مثل ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔دیکھئے ! اللہ تعالیٰ بے مثل ہے ، اس کا نور بھی بے مثل ہے لیکن قرآن پاک فرماتا ہے مَثَلُ نُورِه كمشكوة فِيهَا مِصْبَاح - الآية ( نورع (۵) کہ اس کے نور کی مثل ایک مشکوۃ ( طاقچہ ) کی طرح ہے جس میں روشن چراغ ہو۔“ تو کیا اب چونکہ خدا کے نور کی مثل بیان ہوگئی لہذا اس کا نور بے مثل و بے مانند نہ رہا؟ نہیں نہیں ، نور بے مانند ہے۔ہاں اس کا نور اپنے اثرات میں مشکوۃ سے معمولی سی مشابہت رکھتا ہے۔اسی طرح توحید ضرور بے مانند ہے مگر حضرت مرزا صاحب بوجہ رسالت حقہ خدا کی بارگاہ میں توحید ہی کی طرح پیارے ہیں کیونکہ وہ اس زمانہ میں توحید کی صدا بلند کرنے میں یگانہ تھے۔اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کے باعث برہمو سماجی اور آریہ وغیرہ رسولوں کی ضرورت کے منکر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کیا خدا کی توحید بجز اقرار رسالت محمد کی ناقص ہے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ اس وقت کے عالمگیر رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا توحید کی طرح ضروری ہے گویا وہ بمنزلہ توحید ہیں۔اور اُن پر ایمان لائے بغیر حقیقی توحید پر ایمان لا ناممکن ہی نہیں۔اور ہر زمانہ میں ہر نبی بمنزلہ توحید ہوتا ہے۔یہی راز ہے کہ اس کا ماننا ضروری ہوتا ہے ورنہ ایمان مکمل نہیں ہوتا۔پس بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيدِی“ کے الفاظ اس مفہوم کو ادا کر رہے ہیں کہ موجودہ وقت میں حضرت مرزا صاحب کا ماننا ویسا ہی ضروری ہے جیسا کہ توحید کا اقرار یا بالفاظ دیگر آج حقیقی اور کامل توحید آپ پر ایمان لانے سے 189