تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 188 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 188

مَا قَالَ السَّيِّدُ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ عَلَيْهِ السَّلَام - میری نسبت جو کہیں کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار (۷) أنتَ مِنّى وَأَنَا مِنْكَ ساتویں نمبر پر مصنف عشرہ نے پھر الہام انت منی و انا منک کو پیش کیا ہے۔چونکہ ہم اس الہام پر فصل دوم میں مفصل بحث کر چکے ہیں اس لئے اس جگہ دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔(۸) أَنْتَ مِنَى بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيدِى اس نمبر میں معترض نے دو الہام پیش کئے ہیں -:- " أَنْتَ مِنِى بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدِي “ اور ” اَنْتَ مِنّى بِمَنْزَلَةِ بَرُوزِئ ، اور پھر لکھا ہے :- ” جب اللہ تعالیٰ بے مثل و بے مانند ہے تو اس کی توحید و تفرید بھی بے مثل ہے۔لیکن جب مرزا صاحب اللہ کی توحید و تفرید کی مانند ٹھہرے تو توحید و تفرید کہاں رہی۔کیا مرزا جی بعینہ خدا تھے جبکہ الہام میں ان کا ظہور ( غالبا ظُهُورُكَ ظُهُورِی کی طرف اشارہ ہے۔ناقل ) بعینہ خدا کا ظہور بتایا گیا ہے۔(عشرہ صفحہ ۴۸) الجواب۔حضرت مرزا صاحب نے اس الہام کے معنے حسب ذیل کئے ہیں :۔(الف) ” تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور ایسا ہی میں تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی توحید اور تفرید کو۔سو جیسا کہ میں اپنی توحید کی شہرت چاہتا ہوں ایسا ہی تجھے دنیا کا میں مشہور کروں گا۔اور ہر ایک جگہ جو میرا نام جائے گا تیرا نام بھی ساتھ ہو گا۔“ ( اربعین نمبر ۳ صفحه (۲۵) (ب) اس کے معنے جو ہمارے خیال میں آتے ہیں یہ ہیں کہ ایسا شخص بمنزلہ توحید ہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحید الہی کی ہتک کی گئی ہو۔ایسے وقت میں آنیوالا توحید مجسم ہوتا ہے۔ہر شخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص کا مقصود و مطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی 188)