تفہیماتِ ربانیّہ — Page 183
کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔اس کا یہی جواب ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے کہلوائے ہیں اور اس سے پہلے قلی ( تو کہہ ) محذوف ہے۔جیسا کہ دوسری آیات اور قرائن سے ثابت ہے۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے الہام میں بھی خدا تعالیٰ مخاطب ہے اور وہاں پر بھی قتل محذوف ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ حضور کے الہامات میں بالتصریح مذکور ہے :- (1) لِلَّهِ الأمرُ مِن قبل ومن بعد کہ تمام حکم اول اور آخر خدا ہی کا وو ہے۔“ ( اربعین نمبر ۲ صفحہ ۳۲) (۲) ”قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ، که اعلان کر دو کہ تمام امر خدا ہی کے اختیار میں ہے۔“ (جنگ مقدس صفحہ ۱۲۴) (۳) رَبِّ كُلَّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارُ حَمنِی۔“ اے میرے رب ہر چیز تیری ہی خدمتگار ہے تو میری حفاظت اور نصرت کر اور مجھ پر رحم فرما۔(البشر کی جلد ۲ صفحہ ۷۵) (۴) "إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ سَاَجْعَلُ لَكَ سَهُولَةً فِي كُلِّ أَمْرٍ۔“ میں رحمن ہوں ہر ایک امر میں تجھے سہولت دونگا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۵) اس قدر محکم اور واضح نصوص کی موجودگی میں کل لک کا مخاطب حضرت مرزا صاحب کو قرار دینا اور اس سے شرک کا اثبات کرنا دیانتداری کے سراسر خلاف ہے۔الہام دوم کی حقیقت اِس اعتراض میں دوسرا الہام أريدُ ما تُرِيدُونَ ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو تمہارے ارادے اور مقاصد ہیں میں بھی وہ چاہتا ہوں۔یعنی اُن کو پورا کروں گا۔جیسا کہ ایک دوسرے الہام میں اس کی تشریح موجود ہے۔فرمایا :- ”خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔“ (حقیقة الوحی صفحه ۸۳) ہاں اگر کسی کو اس جگہ یہ وہم پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ میں (نعوذ باللہ ) حضرت مرزا صاحب کے تابع ہے تو اس کے لئے حسب ذیل عبارات و الہامات کافی ہیں۔حضرت فرماتے ہیں :- 183