تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 179 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 179

-: آپ غلطیاں نکالیں گے۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (1) وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَن يُرْ ضُودُ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حقدار ہیں کہ منافق ان کو راضی کریں۔( تو بہ رکوع ۸) کیا یہاں بھی ھما ہونا چاہئے؟ (۲) وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلا على الخشعِينَ۔تم مددطلب کر وصبر اور نماز کے ذریعہ سے اور یہ بجز خشیت الہی رکھنے والوں کے باقی سب پر بھاری ہیں۔(بقرہ رکوع ۵) کیا یہاں بھی انها کی بجائے ایما چاہئے؟ (۳) فَانظُرُ إِلى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّه - اپنے کھانے اور پینے کو دیکھ وہ خراب نہیں ہوئے۔(بقرہ رکوع ۳۵) کیا اس جگہ بھی ”یتسنہ“ کی بجائے تثنیہ (دو کا ) صیغہ چاہئے تھا؟ (۴) وَالَّذِينَ يَكْذِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيْلِ اللهِ ( تو به رکوع ۵ ) ها واحد کی ضمیر ہے اور مرجع سونا اور چاندی دو چیزیں ہیں۔کیا اس جگہ بھی ھما چاہئے تھا؟ ان امثلہ سے ظاہر ہے کہ بسا اوقات پہلے دو چیزوں کا ذکر ہوتا ہے مگر ان کی طرف ضمیر واحد بتاویل ما) پھیری جاتی ہے اس کو غلطی قرار دینا در اصل جہل مرتب کا نتیجہ ہے۔ہم نے قرآن پاک کی مثالیں اسی لئے دی ہیں کہ تا معترض پٹیالوی اور اس کے ہمنوا علماء کو دم مارنے کی گنجائش تہ رہے۔افسوس پر افسوس تو اس بات کا ہے کہ اگر یہ لوگ اس قدر عربی استعداد نہ رکھتے تھے تو خیر لیکن یہ کیا غضب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہ ایک بلکہ دو جگہ اس امر کی تصریح فرما دیں کہ :- (1) ضمیر ھو اس تاویل سے واحد ہے کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔“ (سراج منیر صفحہ ۸۱ حاشیہ) (۲) هُوَ کا ضمیر واحد بتا ویل مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ہے ( براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۸۷) مگر یہ محقق اور صداقت شعار اپنی ہی رٹ لگاتے جائیں۔افسوس کہ عالمان ایں دہر کردند شعار خود دعا را اگر کسی کو الحائزتك لنفیسی پر اعتراض ہو تو اسے یہ آیات پڑھ لینی چاہئیں (179)