تفہیماتِ ربانیّہ — Page 170
اور لعنتوں کو مجھ سے کس طرح دُور کر دیا ہے کیونکہ وہ مذقم ( قابل مذمت وجود ) کو گالیاں دیتے ہیں اور میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں یعنی قابل حمد و ستائش۔“ یہ امر تشریح طلب نہیں کہ اس حدیث میں حضور نے آنا محمد کو مدغم کے بالمقابل رکھ کر بطور صفت ( بار بار حمد کیا گیا ) ذکر فرمایا ہے وھو المطلوب۔حضرات ! مندرجہ بالا بیانات سے آپ پر واضح ہو چکا ہے کہ لفظ محمد کا استعمال عام ہے۔جو لوگ اس کو غیر اللہ کے لئے مطلقا نا جائز قرار دیتے ہیں وہ دراصل ” کوئیں کے مینڈک ہیں۔فقره دوم کا جواب : اگر چہ ہمارے بیان کے آخری حصہ سے مکذب بیٹیالوی کے اعتراض کے دوسرے حصہ کا خود بخود جواب مل جاتا ہے کیونکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان یہ ہے کہ اللہ، فرشتے، رسول اور جمیع خلق آپ کی حمد کرتے ہیں اور مقام محمود کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے تو اب افضلیت یا ہتک“ کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔کیونکہ آپ کی شان میں بھی لفظ محمد وارد ہے بلکہ آپ محمد ہیں یعنی بالفاظ دیگر ع بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر کے مصداق ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔لیکن ہم ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سینکڑوں اقتباسات میں سے صرف دو درج کرتے ہیں۔ان سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی جس قدر بھی شان بلند ہو بہر حال آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضان حاصل کیا ہے۔اور وہ تمام محامد بالآخر آنحضرت صلی اللہ کی ذات کی طرف ہی راجع ہیں۔فرماتے ہیں :- اول۔اس بات کو ہر جگہ یا درکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح و ثناء جو کسی مومن کے الہامات میں کی جائے وہ حقیقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ہوتی ہے۔اور وہ مؤمن بقدر اپنی متابعت کے اس مدح سے حصہ حاصل کرتا ہے اور وہ بھی محض خدا تعالی کے لطف اور احسان سے نہ کسی اپنی لیاقت اور خوبی سے۔“ دوم۔فرماتے ہیں a (براہین احمدیہ جلد پنجم صفحه ۴۸۸ حاشیہ نمبر ۳) اه حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند تحریر فرماتے ہیں :۔اور انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل اور عکس محمدی ہے کوئی ذاتی کمال نہیں۔اس صورت میں اگر اصل اور ظل میں تساوی بھی ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ افضلیت بوجہ اصلیت پھر بھی ادھر رہے گی۔“ (تحذیر الناس صفحہ ۳۳) (170)