تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 163 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 163

ہوسکتا ہے کہ اس ملک (ہند) میں حق تعالیٰ کی طرف سے بعض انبیاء بھی مبعوث ہوئے ہوں۔کیونکہ احتمال ہے کہ شاید یہ باتیں جو اُن کی نسبت ان کی پوتھیوں میں لکھی ہیں جھوٹ ہوں۔“ ( رسالہ تحفۃ الہند صفحہ ۶) (۴) جناب مولوی شبلی نعمانی لکھتے ہیں -: ”ہندوستان کے پیغمبر افسانوں کے حجاب میں گم ہیں۔(سیرۃ النبی جلد ۱ صفحہ ۲) (۵) حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند لکھتے ہیں :- (الف) رامچندر، کرشن نبی تھے۔“ (ست دھرم و چار صفحه ۸ مصنفه مولانا موصوف ) (ب) " کیا عجب ہے کہ جس کو ہندو صاحب اوتار کہتے ہیں اپنے زمانہ کے نبی یا ولی یعنی نائب نبی ہوں۔قرآن شریف میں یہ بھی ارشاد ہے مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا الخ سو کیا عجب ہے کہ انبیاء ہندوستان بھی انہی نبیوں میں سے ہوں جن کا تذکرہ آپ سے نہیں کیا گیا۔رہی یہ بات کہ اگر ہندوؤں کے اوتار انبیاء یا اولیاء ہوتے تو دعوئی خدائی نہ کرتے اور افعال ناشائستہ مثل زنا، چوری وغیرہ اُن سے سرزد نہ ہوتے۔حالانکہ اوتاروں کے معتقد یعنی ہندوان دونوں باتوں کے معتقد ہیں۔جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ دونوں باتیں بے شک ان سے سرزد ہوئی ہیں۔سو اس شبہ کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دعوای خدائی نصاری نے منسوب کر دیا ہے اور دلائل عقلی و نقلی اس کے مخالف ہیں۔ایسے ہی کیا عجب ہے کہ سری کرشن اور سری رامچندر کی طرف بھی یہ دعوی بدروغ منسوب کر دیا ہو۔“ -: ( مباحثہ شاہجہانپور مطبوعہ سہارنپور مابین مولانا محمد قاسم صاحب ودیا نند سرسوتی صفحه ۳۱) (۶) ایک مبلغ اسلام لکھتے ہیں میں مجمل طور پر ہندوستان کے دو نامور بزرگوں سری رامچندر جی اور سری کرشن جی کے حالات پیش کرتا ہوں۔یہ لوگ واقعی ہندوستان کے رسول تھے۔“ لیکچر " ہندوستان کے دو پیغمبر صفحہ ۹) یہ لیکچر انجمن حمایت اسلام لاہور کے ۲۲ ویں سالانہ جلسہ میں ہزاروں مسلمانوں کے سامنے پڑھا گیا۔مؤلف 163)