تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 160 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 160

بغیر میں نہیں رہ سکتا۔اور آج یہ پہلا دن ہے کہ ایسے بڑے مجمع میں اس بات کو میں پیش کرتا ہوں کیونکہ جولوگ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں وہ کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے نہیں ڈرتے۔اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔وہ خدا کی طرف سے فتحمند اور با اقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔“ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۳-۳۴) معترض نے تناسخ کی قائلیت کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- (ب) اب میں بحیثیت کرشن ہونے کے آریہ صاحبوں کو اُن کی چند غلطیوں پر تنبیہ کرتا ہوں ( قدامت روح و مادہ کی تردید کے بعد فرماتے ہیں۔ناقل ) اِس غلطی نے ایک اور قسطی میں آریہ صاحبوں کو پھنسا دیا ہے جس میں ان کا خود نقصان ہے۔جیسا کہ پہلی غلطی میں پر میٹر کا نقصان ہے اور وہ یہ کہ آریہ صاحبوں نے ملکتی کو میعادی ٹھہرادیا ہے اور تناسخ ہمیشہ کے لئے گلے کا ہار قرار دیا گیا۔جس سے کبھی نجات نہیں۔یہ بخل اور تنگ دلی خدائے رحیم و کریم کی طرف منسوب کرنا عقلِ سلیم تجویز نہیں کر سکتی۔(لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۵) ہر دو اقتباس نہایت واضح ہیں، ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کو پڑھیں اور دوسری طرف معترض کی دیدہ دلیری ملاحظہ کریں کہ حوالہ لیکچر سیالکوٹ کا اور پھر اس طرح متعصبانہ اعتراض؟ بع چه دلاور است وز دے کہ بکف چراغ دارد اسی ذیل میں مصنف عشرہ نے الہام ” آریوں کا بادشاہ“ اور ”بر ہمن اوتار سے مقابلہ 160