تفہیماتِ ربانیّہ — Page 159
درج ہیں شرافت انسانی ان کے ذکر سے مانع ہے۔اب کیا اس لئے کہ یہود و نصاری نے اُن پر الزام لگائے ہیں ہم قرآن مجید اور اسلام کے اس امتیازی ، عالمگیر اور صلح گل اصول کو ترک کر دیں اور ان انبیاء کو ان افعال کا مرتکب سمجھ لیں؟ حاشا وکلا۔پس یہ طریق ہی غلط ہے۔افسوس کہ وہ شخص ( مکذب پٹیالوی ) جو اپنی نادانی سے دوسروں کو مخالف قرآن سمجھ کر نصیحت کرتا تھا کہ قرآن و حدیث کو چھوڑ کر اور اسلام کے چشمہ صافی سے منہ موڑ کر مشرکوں اور تناسخ کے قائلوں کے پیچھے پیچھے جوتیاں چٹخار تے پھر نا درست نہیں۔“ وہ خود قرآن سے روشنی حاصل کرنے اور کرشن کے متعلق فیصلہ چاہنے کی بجائے ” گیتا کے شلوک ثبوت تناسخ میں پیش کر رہا ہے ع دیگران را نصیحت و خود رافضیحت حالانکہ اگر کرشن کے عقائد کے لئے گیتا مستند ہے تو حضرت مسیح کے عقائد کے لئے انجیل کیوں مستند نہ ہوگی ؟ قرآن مجید نے کیا صاف فیصلہ فرمایا ہے کہ ہم نے ہر امت میں اس لئے رسول بھیجے تا کہ وہ عبادت الہی کی تلقین کریں اور لوگوں کو شرک سے دُور ہٹا ئیں۔گویا سب قوموں کے بانیوں اور نبیوں کے متعلق مستقل فیصلہ ہو گیا۔افسوس اُن پر جو اس کھلے فیصلہ کے باوجود ادھر اُدھر بھٹکتے پھریں۔حضرت مسیح موعود اور کرشن کے عقائد معترض نے اپنے الزام کی بنیاد حضور ما دلیکچر سیالکوٹ قرار دی ہے۔وہاں پر حسب ذیل عبارات لکھی ہیں حضور فرماتے ہیں :- (الف) وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اُس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔میں جانتا ہوں کہ جاہل مسلمان اس کو منکر فی الفور یہ کہیں گے کہ ایک کافر کا نام اپنے پر لے کر کفر کو صریح طور پر قبول کیا ہے۔لیکن یہ خدا کی وحی ہے جس کے اظہار کے لے کیونکہ عالم مسلمان کرشن کو پاکباز مانتے ہیں جیسا کہ آگے مذکور ہے۔مؤلف 159