تفہیماتِ ربانیّہ — Page 107
پر تو لکھتے کہ میری عمر میں یہ پانچ سال بھی زائد ہو گئے ہیں۔مگر حضرت کا ایسا نہ لکھنا معترض کی بطالت کی صریح دلیل ہے۔ایک اور گھلا جھوٹ معترض نے لکھا ہے کہ مولوی مردان علی صاحب کی پیشکش کو ”مرزا صاحب نے قبول کیا۔(ازالہ) یہ سراسر کذب و بہتان ہے۔حضرت مسیح موعود نے کسی جگہ ایسا نہیں لکھا کہ میں اس پانچ سالہ عمر کی قربانی کو قبول کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض دوستوں کا اسی بیان میں ذکر کر کے لکھا ہے کہ انہوں نے دس دس روپیہ ماہواری چندہ دینا قبول کیا ہے معلوم ہوتا ہے اس ” قبول کیا ہے“ کے لفظ سے معترض نے دھوکا کھایا ہے۔کیا اسی برتے پر تینا پانی ؟ مولوی مردان علی صاحب کے متعلق تو حضور نے اتنا ہی لکھا ہے :- خدا تعالے اس ایثار کی ان کو یہ جزاء بخشے کہ ان کی عمر دراز کرے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۳۸۹) اگر معترض یہ دکھا دے کہ مرزا صاحب نے پانچ سالہ عمر کو قبول کیا تو اسے سو روپیہ مزید انعام دیا جائے گا ورنہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِ بین کا طوق زیب گلو ہوگا۔امرسوم معترض پٹیالوی لکھتا ہے :- مرزا صاحب کو بمقابلہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان صاحب الہام ہوا تھا۔اور تیری عمر بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں۔دیکھو اشتہار تبصرہ۔“ ( حاشیہ صفحہ ۳۷ عشرہ) الجواب مفصل گفتگو تو ڈاکٹر عبدالحکیم والے واقعہ کے متعلق فصل دہم میں ہوگی اس جگہ مختصر جواب یہ ہے کہ آپ نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ ”میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا“ کا الہام کر بمقابلہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ہو ا تھا۔“ چونکہ ڈاکٹر عبد الحکیم نے پیشگوئی کی تھی کہ حضرت مرزا صاحب چودہ مہینہ میں ہلاک ہو جا ئیں گے (نعوذ باللہ ) تو خدا تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں الہام فرمایا کہ میں دشمن کو جھوٹا کرنے کی خاطر تیری عمر بڑھا دوں گا۔لیکن جب خود مرتد ڈاکٹر نے اس چودہ ماہ پیشگوئی کو منسوخ کر کے ۴ راگست ۱۹۰۸ ء کا دن حضرت کی وفات کے لئے مقرر کر دیا تو خدا تعالیٰ (107)