تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 103 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 103

(۳) پنڈت لیکھرام مقتول لکھتا ہے :- پچاس برس کی عمر ہو چکی ہنوز خواتین کی آرزو باقی ہے۔“ اشتہار ۱۸ / مارچ ۱۸۸۶ و تکذیب براہین احمدیہ جلد ۲ صفحه ۲۹۸) اس حساب سے بھی حضور کی عمر سے سال سے زائد بنتی ہے۔(۴) مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر ”زمیندار“ کے والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر زمیندار میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ :- مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ یا ۱۸۷ ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محترر تھے۔اُس وقت آپ کی عمر ۲۲ - ۲۳ سال کی ہوگی۔اور ہم چشمد ید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی اور بزرگ تھے۔“ زمیندار بحواله عسل مصفی جلد ۲ صفحه ۶۳۴) اس حساب سے بھی حضور کی عمر بحساب قمری ۷۴ سال بنتی ہے۔ان تمام حوالجات سے بین طور پر ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر از روئے تحریرات خود اور ازروئے شہادات مخالفین بہر حال ۷۴ سال یا اس سے زیادہ ہوئی ہے۔پس مؤلف عشرہ کا یہ دعویٰ کہ ۶۵ سال اور چند ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے“ بالبداہت باطل ہو گیا وهو المقصود۔عمر کے اندازہ میں اختلاف کیوں؟ اور اس کا حل مخالفین احمدیت کی مندرجہ بالا شہادات میں حضور کی عمر کی تعیین میں اختلاف نظر آتا ہے۔اور ایسا ہی بعض مقامات پر خود حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں بھی بادی النظر سے اختلاف نظر آتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام اندازے قیاسات کے ماتحت ہیں۔ظاہر ہے کہ کسی کی عمر کے متعلق جب قیاس کیا جائے گا تو ایک دو سال کا فرق پڑ جانا چنداں بعید نہیں بلکہ بالعموم ایسا ہو جاتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے متعلق ایک بیان ملاحظہ ہو لکھا ہے :- عمر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعضے ساٹھ برس کی اور بعضے باسٹھ برس چھہ مہینے کی اور بعضے پینسٹھ برس کی کہتے ہیں مگر ار باب تحقیق تریسٹھ برس کی لکھتے ہیں۔“ احوال الانبیاء جلد ۲ صفحہ ۳۳۰) 103