تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 102 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 102

صاحب امرتسری نے لکھا ہے :۔(الف) مرزا صاحب کہہ چکے ہیں کہ میری موت عنقریب اتنی سال کے کچھ نیچے اوپر ہے۔جس کے سب زینے غالباً آپ طے کر چکے ہیں۔“ (اہلحدیث سرمئی ۱۹۰۷) (ب) جو شخص ستر برس سے متجاوز ہو۔جیسے خود بدولت (مرزا صاحب) بھی ہیں۔“ ( تفسیر ثنائی جلد ۲ حاشیه صفحه ۱۰۴ مطبوعه ۱۸۹۹، طبع دوم صفحه ۹۰) " ۷۵ (ج) چنانچه خود مرزا صاحب (فداہ ابی واقی۔ناقل ) کی عمر بقول اسکے پچھتر سال کی ہوئی۔“ (المحدیث ۳۱ جولائی ۱۹۰۸ ، صفحہ ۳ کالم ۲) وو (2) مرزا صاحب رسالہ اعجاز احمدی میں عبد اللہ آتھم۔عیسائی کی بابت لکھتے ہیں کہ اگر پیشگوئی سچی نہیں نکلی تو مجھے دکھاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب چونسٹھ سال کے (صفحہ ۳) اس عبارت سے پایا جاتا ہے کہ عبد اللہ آتھم کی موت کے وقت مرزا صاحب کی عمر چونسٹھ سال کی تھی۔آئیے اب ہم ی تحقیق کریں کہ آتھم کب مرا تھا۔شکر ہے کہ اس کی موت کی تاریخ بھی مرزا صاحب ہی کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔مرزا صاحب رسالہ انجام آتھم صفحہ پر لکھتے ہیں (چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب ۲۷ / جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے ) اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ ۱۸۹۶ء میں مرزا صاحب کی عمر چونسٹھ سال کے قریب تھی۔بہت خوب آیئے اب یہ معلوم کریں کہ آج ۱۹۰۸ ء میں ۱۸۹۶ پر کو گزرے ہوئے گے سال ہوئے ہمارے حساب میں (اگر کوئی مرزائی غلطی نہ نکالے تو ) گیارہ سال ہوتے ہیں۔بہت اچھا چونسٹھ کے ساتھ گیارہ کو ملانے سے پچھتر سال ہوتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کی عمر آج کل پچھتر سال ہے۔(مرقع قادیانی بابت فروری ۱۹۰۸ : صفحه ۱۲) (۲) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں ۱۸۹۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا تھا کہ : ۶۳ برس کا تو وہ ہو چکا ہے۔“ اس کے بعد حضور قریباً پندرہ برس زندہ رہے۔۶۳ + ۱۵ = ۷۸ سال۔102)