تفہیماتِ ربانیّہ — Page 91
لہذا یہ منشی صاحب کا قصور نہیں ، ان کی معاندت کا لازمی نتیجہ یہی تھا۔مگر میں انہیں تو حجہ دلاؤں گا کہ وہ اپنے مسلمہ معانی کی رو سے حسب ذیل استعارات پر بھی نظر کر لیں۔خداوند تعالیٰ فرماتا ہے :۔(۱) نِسَاءُ كُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَلَى شِئْتُمْ (بقره رکوع ۲۸) (۲) ثُمَّ السَّبِيلَ يشرة (العبس ركوع ) (۳) ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (یونس رکوع ۱) (۴) قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ ( مرکوع ۶ ) (۵) أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا ( تحريم رکوع ۲) (۶) إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِثْمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (افتح رکوع ۲) (۷) فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلَى ( انقال ع ) (۸) يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ( القسم ركو ع (۲) (۹) يَدَ المَبْسُوطَتَانِ (مائده رکوع ۹) پھر حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے بندے میں بُھو کا تھا تُو نے مجھے کھانا نہ دیا۔میں مریض تھا تو نے میری عیادت نہ کی۔میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔میں ننگا تھا تو نے مجھے لباس نہ دیا الخ (مشکوۃ) پھر اللہ نے فرمایا جب بندہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اُس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ( بخاری کتاب الرقاق باب التواضع )۔بع کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے (۲) باقی رہا یہ سوال کہ اس قسم کے استعارات کی کیا ضرورت تھی ؟ سو یا در ہے کہ اہلِ مذہب کے دو حصے ہوتے ہیں۔ظاہر پرست، باطن پرست۔اول الذکر علماء اور ثانی الذکر صوفیاء کہلاتے ہیں۔مذہبی کتب اور انبیاء و اولیاء کے الہامات میں ہر طبیعت کے لئے غذا ہونی ضروری ہے اس لئے بنی نوع انسان کی ہر قسم کے لئے اُن میں کافی ذخیرہ ہوتا ہے کہ وہ آسمانی پیغام اور الہی صداقت کو اپنی زبان میں سمجھ کر آستانہ الوہیت پر جبین نیاز جھکا دیں۔جس طرح ایک انگریز اور ایک یونانی پنجابی زبان کا خطاب سمجھنے سے معذور ہے اور اپنی زبان میں ہی سمجھنے کا عادی ہے قریباً اسی طرح صوفیاء اپنی مخصوص اصطلاحات اور علماء ظواہرا اپنی قشر پرستی کے ماتحت اپنے اپنے دائرہ کی زبان کے عادی ہیں۔بناء بریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ہر دو طرز کا کلام نازل فرمایا۔وہ الہامات بھی ہیں جن میں تصوف کا رنگ غالب ہے اور وہ حصہ بھی ہے جو ظاہر یت پر مبنی ہے۔متصوفانہ حصہ پر نادانوں کا 91