تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 794 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 794

جھوٹ بولا ہوگا۔کون تم میں ہے جو میرے سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے؟ پس یہ خدا کا فضل ہے جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔“ ( تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۶۲) حضور کی یہ تحدی اپنی ذات میں آپ کی صداقت کی نہایت زبردست دلیل ہے۔پھر دشمن تک نے بھی یہی شہادت دی ہے کہ آپ کی زندگی نہایت پاکیزہ تھی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا تھا :- (1) ” مؤلّف براہین احمدیہ (حضرت مرزا صاحب) کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہموطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکن تھے۔“ (اشاعۃ السنہ جلدے نمبر ۶) (۲) یہی جواب ہم الہامات مؤلّف براہین احمدیہ کی طرف سے دے سکتے اور یوں کہہ سکتے ہیں کہ شیطان اپنے اُن دوستوں کے پاس آتے ہیں اور ان کو (انگریزی خواہ عربی میں ) کچھ پہنچاتے ہیں جو شیطان کی مثل فاسق و بدکار اور جھوٹے دکاندار ہیں۔اور مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رُو سے ( والله حسیبہ ) شریعتِ محمد میہ پر قائم و پرہیز گار اور صداقت شعار ہیں۔(اشاعۃ السنہ جلدے نمبر ۹) (۳) اس (براہین احمدیہ) کا مؤلف ( حضرت مرزا صاحب ) بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی واسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔“ (اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبرے) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کے بعد مخالفت کرتے ہوئے بھی یہی گواہی دی ہے کہ دعوئی سے پہلے حضرت کی زندگی ان کی نظروں میں بھی نہایت پاکیزہ تھی اور وہ بھی حضرت سے حسن ظن رکھتے تھے اور زیارت کے شوق سے قادیان گئے۔ان کے الفاظ یہ ہیں۔جس طرح مرزا صاحب کی زندگی کے دو حصے ہیں (براہین احمدیہ تک اور اسکے بعد ) اسی طرح مرزا صاحب سے میرے تعلق کے بھی دو حصے ہیں۔براہین احمدیہ تک اور براہین سے بعد۔براہین تک میں مرزا صاحب سے حسن ظن تھا۔چنانچہ ایک دفعہ جب میری عمر کوئی ۱۷-۱۸ سال کی تھی میں بشوق زیارت بٹالہ سے پا پیادہ تنہا قادیان گیا۔(رسالہ تاریخ مرزا صفحه ۵۳) ایسی اور بھی بیسیوں شہادتیں ہیں۔پس قرآنی معیار کی رُو سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہے۔معیار دوم - اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ مفتری نا کام ہوتا ہے۔چنانچہ فرمایا۔(۱) فَمَنْ أَظْلَمُ (794)