تفہیماتِ ربانیّہ — Page 781
ہوتے۔پہیں حدیث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ) اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے ہرگز مخالف نہیں کیونکہ خاتم النبیین کے تو یہ معنی ہیں کہ آنحضرت کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہو سکتا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔اس مفہوم کی تقویت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔“ حضرت امام علی القاری کا ارشاد نہایت واضح ہے۔انہوں نے غیر مبہم الفاظ میں حدیث لَوْعَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کا یہ مطلب بیان فرما دیا ہے کہ صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی نبی ہوتے۔کیونکہ آیت خاتم النبیین امتی نبی کے راستے میں قطعاً روک نہیں ہے۔حضرت عمر بھی مشیت ایزدی سے اگر نبی ہوتے تو امتی نبی ہوتے۔حضرت امام موصوف نے حضرت مسیح، حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہم السلام کی مثال دے کر بھی یہ واضح فرمایا کہ آنحضرت کے تابع نبیوں کے وجود کو محال نہیں سمجھا گیا۔پھر حدیث لَوْ كَانَ مُؤْسَى حَیا کو پیش کر کے مزید صراحت فرما دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بلند و بالا مرتبہ ہے کہ حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو وہ آپ کے تابع نبی ہوتے۔پس یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ امام علی القاری حدیث زیر بحث سے امتی نبی کا امکان مانتے تھے۔پھر آپ نے ایک دوسری جگہ بھی حدیث لَوْ كَانَ مُوسى حَیا کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریر فرمایا ہے۔”أقولُ لا مُنَافَاةَ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا وَأَنْ يَكُونَ تَابِعًا لِنَبِيِّنَا صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کہ میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی منافاۃ اور تناقض نہیں کہ ایک شخص نبی بھی ہو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بھی ہو۔“ (مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحہ ۵۶۴) اب یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ ملا علی قاری علیہ الرحمۃ نے حدیث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کے امتی نبی کا امکان تسلیم فرمایا ہے۔انہوں نے اس حدیث کا یہی مطلب سمجھا ہے اور یہی ہمارا موقف ومسلک ہے۔خاتم النبیین کے معنوں کے متعلق لاجواب چیلنج ایک غیر احمدی نے مودودی صاحب کو لکھا کہ :- (781)