تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 772 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 772

ہیں۔وہ بھی جن کے پاس رسول آچکے اور وہ بھی جن کے پاس رسولوں کا آنا ممکن ہے۔“ پس جب سب آدمزادوں کو نبیوں کے آنے کی خبر دی گئی ہے تو اس سلسلہ کا قیامت تک رہنا ضروری ہے۔(1) آیت فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ کے متعلق لکھا ہے کہ امام مہدی یہ کہیں گے اور اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کریں گے۔گویا امام مہدی مرسلین میں سے ہوں گے۔(کتاب الکمال الدین صفحہ ۱۸۹) اب بھی ضرورت نبوت باقی ہے؟ شیعوں کی ایک معتبر کتاب میں لکھا ہے :- اگر کسی وقت میں نوع انسانی معلم روحانی کی محتاج تھی تو اب بھی ہے الا یہ کہ دیا جائے کہ کبھی انسان محتاج پیغمبر وامام ومعلم روحانی نہ تھا اور بثت معلمین الہی معاذ اللہ فضول اور لغو ہے۔ورنہ جو اول ضرورت کو تسلیم کرتا ہے وہ اب بھی کر چکا۔جو پہلے انبیاء و اوصیاء وائمہ کو مانتا ہے وہ اب مانے گا اور وجو د امام کو تسلیم کرے گا۔وجود امام آخر الزمان کا منکر تمام انبیاء و اوصیاء کا منکر ہے اور یہی قول پیغمبر سے بھی ثابت ہے۔“ (الصراط السوقی صفحہ ۴۵-۴۶) اُمت محمدیہ میں نبوت جاری ہے حضرت امام ابو جعفر ابراہیمی نسل کی نعمتوں ”الرسل والانبياء والائمة “ کے ذکر پر فرماتے ہیں :۔فَكَيْفَ يُقِرُّونَ فِى آلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَيُنْكِرُونَهُ فِي آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ (الصافی فی شرح اصول الکافی جلد ۲ صفحہ ۱۱۹) کہ عجیب بات ہے کہ لوگ ان نعمتوں کا وجود آل ابراہیم میں تو تسلیم کرتے ہیں لیکن آل محمد میں ان کا انکار کرتے ہیں۔پس امت محمدیہ میں تابع نبیوں کا آنا تعجب خیز نہیں بلکہ اس نعمت کا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم (772)