تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 770 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 770

رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ ايْتِكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَّذِلَّ وَ نَخزی (طه : ۱۳۴) کہ اے خدا! اگر تو ہماری طرف کسی رسول کو مبعوث فرما دیتا تو ہم ذلیل ورسوا ہونے سے پیشتر تیری آیات کی پیروی کرلیتے۔“ اب یہ مضمون واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے امتی رسولوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور منکرین اور معاندینِ اسلام پر ان کے ذریعہ سے اتمام حجت ہوگی اور وہ مستحق عذاب قرار پائیں گے۔ان دس آیات پر ادنی سا تدبر کرنے سے یہ حقیقت گھل جاتی ہے کہ قرآن مجید کے رُو مَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُول کی قید کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی انبیاء کا آنا ممکن ہے۔البتہ قرآنی شریعت کو منسوخ کرنے والے یا فیضانِ محمد سی کے منکر نبی نہیں آسکتے۔پس اس حقیقت کی روشنی میں خاتم النبیین کی یہی تفسیر درست اور قابل قبول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نئی شریعت لانے والے انبیاء کا آنا منع ہے مگر امتی نبیوں کی بعثت جاری ہے۔اسی سے فیضانِ محمد سمی کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔شید کتب تفسیر و عقائد نے ختم نبعت کی حقیقت شیعہ کتب تفسیر و عقائد کے رُو سے بھی ختم نبوت کی حقیقت درج ذیل کی جاتی ہے تاشیعہ بھائیوں کو بھی سمجھنے میں سہولت رہے۔ط (1) آيت إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ، قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ، قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (سوره بقره : (۱۲۴) کے متعلق شیعہ تفسیر میں لکھا ہے :- " فَابْطَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ اِمَامَةَ كُلِّ ظَالِمٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَصَارَتْ فِي الْصَفْوَةِ “ ( تفسیر صافی زیر آید مذکورہ) کہ اس آیت نے قیامت تک کے لئے ہر ظالم کی امامت کو باطل کر دیا۔ہاں اس سے پاک لوگوں کی امامت قیامت تک ثابت ہو گئی۔(۲) آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ میں رسول کے بھیجے جانے (770)