تفہیماتِ ربانیّہ — Page 767
رسول مراد ہے اور اس طرح یہ آیت صریح طور پر دلالت کرتی ہے کہ ہر نبی کے بعد نبی کا آنا ممکن ہے اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ہاں اس آیت میں رَسُولٌ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ ، تنکیر کو نیم شان کے لئے بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور معنی یہ ہوں گے کہ اس میں سب سے بڑے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے سب امتیں آپ پر ایمان لانے کی مکلف ہیں۔آپ کے بعد کے انبیاء آپ کے اظلال ہیں اور اس صورت میں آپ کے وجو د باجود میں ہی شامل ہوں گے۔اس صورت میں یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ آنحضرت جملہ نبیوں کے مصدق ہیں جنہیں دوسری جگہ خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔گویا قرآن مجید سے متعین ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی مصدق النبیین کے ہیں وھو المراد۔(۸) وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحِ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوْسٰى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيظًاهِ لِيَسْتَل الصَّدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ ، وَأَعَدَّ لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا المان ( احزاب : ۷-۸) ترجمہ۔یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے بھی ، نوح، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسی بن مریم علیہم السلام سے بھی۔ہم نے سب سے مضبوط عہد لیا تا کہ اللہ تعالیٰ صادقوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے۔اس نے کافروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔“ اس آیت میں صراحت سے فرمایا ہے کہ جن انبیاء سے میثاق لیا گیا اُن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔سورۃ آل عمران والی آیت کو ساتھ ملا کر تدبر کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید کے ذریعہ بھی یہ عہد لیا گیا ہے کہ مسلمان آنے والے نبیوں پر ایمان لاتے رہیں ورنہ سورہ احزاب کی آیت ومنك“ کے الفاظ بے معنی قرار پاتے ہیں مشہور تفسیر حسینتی میں اس کے معنی یوں لکھے ہیں :- " وَإِذْ أَخَذُ نَا۔یاد رکھو کہ لیا ہم نے۔مِنَ النَّبِيِّين نبیوں سے۔(767)