تفہیماتِ ربانیّہ — Page 765
قبض کر لیجیو۔چونکہ آیت وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُول میں خیر امت کے مراتب اور مناقب کا ذکر ہے، اس فضل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے مقرر فرمایا ہے اس لئے اِس جگہ اشتراک رتبہ کے معنی ہی ہوسکتے ہیں۔اگر کہو کہ نبی کوئی نہیں بن سکتا تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اُمت میں سے کسی کے صالح ، شہید، اور صدیق بنے کا بھی امکان نہیں کیونکہ مع کا لفظ تو سب کے ساتھ ہے۔ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مع کے موقع کے لحاظ سے مختلف معنی ہوتے ہیں اور قرآن مجید میں بھی یہ لفظ مختلف معنوں میں آیا ہے جس سے بعض لوگوں کو غلطی لگ جاتی ہے لیکن لفظ مع لغت اور آیات کی رُو سے اشتراک فی الرتبہ کے معنی بھی رکھتا ہے اور آیت زیر نظر میں اِس معنی کے سوا کوئی معنی چسپاں نہیں ہو سکتے۔ہماری اس تشریح سے جناب مودودی صاحب ایسے لوگوں کی غلطی بالکل عیاں ہو جاتی ہے جو اس آیت کے جواب میں آیات مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةً إِنَّ اللهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ۔إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ۔هُوَ مَعَكُمْ أَيْمَا كُنتم پیش کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کا قیاس مع الفارق ہے۔(٦) اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (سوره فاتحه ) اے اللہ ! تو ہمیں صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما اور ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا ہے۔ان کی راہ سے بچا جو مغضوب علیہم یا ضالین تھے۔“ اس آیت میں امت محمدیہ و مغضوب علیہم اور ضالین کی راہ سے بچنے اور منعم علیہم کی راہ پر چلنے کی دعا سکھلائی گئی ہے۔احادیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا قول مروی ہے کہ مغضوب علیم سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔یعنی جب ان دونوں پر روحانی زوال آیا تو وہ مغضوب علیہم اور ضالین بن گئے ورنہ پہلے وہ انعام پانے والے تھے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا بے وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ (765)