تفہیماتِ ربانیّہ — Page 757
بے شمار ہے۔آپ کی روحانی اولاد بلند ترین منصب کی وارث ہے کیونکہ آپ رسول اور وو خاتم النبیین ہیں۔ی تفسیر نہایت واضح اور سیاق و سباق کے عین مطابق ہے لیکن شاید اہل زیغ کے لئے اس لئے قابل تسلیم نہ ہو کہ اس کا بیان کرنے والا ایک احمدی ہے لہذا ہم ذیل میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کے الفاظ درج کرتے ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں :۔" حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوت معروفہ تو رسول اللہ صلعم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النبیین شاہد ہے کیونکہ اوصاف معروض وموصوف بالعرض، موصوف بالذات کے فرع ہوتے ہیں۔موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کی اصل ہوتا ہے اور وہ اس کی نسل۔اور ظاہر ہے کہ والد کو والد اور اولاد کو اولاد اسی طرح سے کہتے ہیں کہ یہ اس سے پیدا ہوتے ہیں۔وہ فاعل ہوتا ہے۔چنانچہ والد کا اسم فاعل ہونا اس کا شاہد ہے۔اور یہ مفعول ہوتے ہیں۔چنانچہ اولا دکو مولود کہنا اس کی دلیل ہے۔سو جب ذات بابرکات محمدی صلعم موصوف بالذات بالنبوۃ ہوئی اور انبیاء باقی موصوف بالعرض تو یہ بات اب ثابت ہوگئی کہ آپ والد معنوی ہیں اور انبیاء باقی آپ کے حق میں بمنزلہ اولاد معنوی۔“ (رسالة تحذیر الناس صفحہ ۱۰) حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی اس پاکیزہ اور معقول وضاحت کے بعد اب ذرا مودودی صاحب کی بے تکی تنقید ملاحظہ ہو۔لکھتے ہیں :- آخر اس بات پر کیا ٹنک ہے کہ اوپر سے تو نکاح زینب پر معترضین کے اعتراضات اور ان کے پیدا کئے ہوئے شکوک وشبہات کا جواب دیا جارہا ہو اور یکا یک یہ بات کہہ ڈالی کہ محمد نبیوں کی مہر ہیں اور آئندہ جو نبی (757)