تفہیماتِ ربانیّہ — Page 716
کے مطابق سب سے پہلے حضرت مسیح کی موت کا ہونا ضروری ہے۔چنانچہ اسی کے مطابق بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کی تفسیر میں علامہ محمد فرید وجدی اپنی کتاب دائرۃ المعارف اسلامی انسائیکلو پیڈیا) جلد ۶ صفحه ۷۸۴ پر محققین کا قول یوں نقل کرتے ہیں :- وَقَالَ أَخَرُونَ بَلْ تَوَفَّاهُ اللَّهُ كَمَا يَتَوفَّى النَّاسَ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ رُوحُهُ بِدَلِيْلِ قَوْلِهِ تَعَالَى اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ “ ترجمہ۔دوسروں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عام لوگوں کی طرح پہلے موت دی، بعد ازاں اُن کی رُوح اللہ تعالیٰ کی طرف اُٹھائی گئی جیسا کہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ سے ثابت ہے۔“ (۲) اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کا قول نقل فرماتا ہے :- وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَهَا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌه (المائده رکوع ۱۶) ترجمہ - کہ میں اپنی قوم کا نگران تھا ( اور گواہ ہوں کہ انہوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا نہیں بنایا ) جب تک میں ان میں رہا۔پر جب تو نے مجھے موت دے دی تو تو ہی ان کا نگران حال تھا اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔“ اس آیت میں حضرت مسیح اقرار فرماتے ہیں کہ جب میری قوم (نصاری) نے مجھے خدا بنایا ہے اُس وقت میری توئی (موت) ہو چکی تھی۔عیسائی آپ کو خدا بتاتے ہیں اس لئے آپ کی وفات بھی ثابت ہے۔دوسری طرح یوں سمجھئے کہ حضرت مسیح یا اپنی قوم میں ہیں یا ان کی توفی ہو چکی ہے کیونکہ آیت میں حرف فاء لا کر دلالت کی گئی ہے کہ ان کی قوم سے علیحدگی کا باعث تو فی ہی تھی۔اب یہ تو عیاں ہے کہ حضرت مسیح اس وقت اپنی قوم میں نہیں اس لئے ان کے فوت شدہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔لے اس کتاب کو مصر کی وزارۃ المعارف العمومیہ اور جامعہ از ہر وغیرہ میں مستند مانا گیا ہے۔منہ (716)