تفہیماتِ ربانیّہ — Page 699
کی پیدائش ہوئی۔گویا حضرت سید احمد صاحب شہید کی شہادت سے تین چار سال بعد آپ پیدا ہوئے۔آپ کی عمر تیرہ چودہ برس تھی جب انگریزوں نے پنجاب کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔آپ کی عمر ۲۳ ۲۴ سال کی تھی جب ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ ہوا اور پھر مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا۔اُن دنوں ہندوستان اور پنجاب میں پادریوں کا بڑا زور تھا۔۱۸۶ء میں بٹالہ میں بھی عیسائیت کا پر چار شروع ہو گیا اور سیارے ملک میں عیسائی حکومت کے غلبہ اور پادریوں کے حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت قابل رحم تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت میرزا صاحب کو حامی دینِ متین اور مسیح موعود و مہدی معہود بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ نے بالخصوص حسب ذیل اعلان فرمائے :- اول۔سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے۔(فتح اسلام مطبوعه ۱۳۰۸ هجری مطابق ۱۸۹۰ صفحه ۱۵) دوم - اے مسلمانو! اگر تم سچے دل سے خداوند تعالیٰ اور اس کے مقدس رسول علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہو اور نصرت الہی کے منتظر ہو تو یقینا مجھو کہ نصرت کا وقت آگیا۔(ازالہ اوہام صفریم) سوم۔” جب تیرہویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گزرگئی تو ایک دفعہ اس دجال گروہ کا خروج ہوا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۲۹۱ طبع اوّل) چهارم - یہ ریل ) عیسائی قوم کی ایجاد ہے جن کا امام اور مقتداء یہی دجالی گروہ ہے۔“ - (ازالہ اوہام صفحہ ۷۳) پنجم۔میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔“ (فتح اسلام صفحہ ۱۷) حضرت مسیح موعود کی دعوت اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہندوستان میں پادریوں سے وہ مقابلہ فرمایا کہ ان کو اعتراف شکست کے بغیر چارہ نہ رہا۔علماء جوحضرت مسیح کو آسمان پر بٹھا کر پادریوں سے زک اٹھا ر ہے تھے انہیں فرمایا کہ:- کہیں عیسائیوں کے خدا کو مرنے بھی دو۔کب تک اس کو سی لا یموت کہتے جاؤ گے کچھ انتہا بھی ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۶۹ طبع اول) آپ دن رات اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کر رہے تھے یا رَبِّ أَرِنِي يَوْمَ كَسْرِ صَلِيْهِ اے میرے رب مجھے ان عیسائیوں کی صلیب کے ٹوٹنے کا دن دکھا دے۔(القصائد الاحمدية ) اور تبلیغ اسلام میں ہمہ تن مصروف تھے۔آپ نے ملکہ وکٹوریہ کو دعوت اسلام دیتے ہوئے لکھا :- (699