تفہیماتِ ربانیّہ — Page 698
اور عبادت سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتے بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہیں۔“ (سوانح احمدی مؤلفہ مولانا محمد جعفر صاحب تھانیسری) حضرت سید شہید نے ۲۱ ؍ دسمبر ۱۸۲۶ ء کو سرحد پہنچ کر سکھوں کے خلاف اعلانِ جہاد کیا اور ۱۸۳۱ء میں سکھوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے مرضی اللہ عنہ۔۱۸۵۷ء کا غدر اور سلم علماء انگریزوں کے خلاف ۱۸۵۷ء میں جو ہنگامہ برپاہوا اس کے تعلق مندرجہ ذیل حوالہ جات قابل غور ہیں :۔(۱) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ :- مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گنہگار اور محکم قرآن و حدیث وہ مفسد و باغی بد کردار تھے۔“ (اشاعۃ السنہ جلد ۹، ۱۸۸۱ء) " (۲) سرسید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کے واقعہ کو بغاوت قرار دیا بلکہ ” حرامزدگی“ کہا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ اس قسم کی بغاوت اسلام کے اصول کے سراسر خلاف ہے۔تفصیل کے لئے دیکھیں رسالہ اسباب بغاوت ہند مؤلفہ سرسید احمد خان ) (۳) مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت ۱۸۵۷ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی و فساد و عناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت قرار دیا۔“ (اشاعۃ السنہ جلد ۶ ۱۰ صفحہ ۲۸۸) ملکہ برطانیہ کی طرف سے مذہبی آزادی کا اعلان یکم نومبر ۱۸۵۷ء کوالہ آباد میں ایک دربار منعقد کر کے ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ :- ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا شاہانہ ارادہ اور ہماری خوشی یہ ہے کہ ہماری رعایا میں سے کسی شخص کو اس کے مذہبی عقیدہ اور رسوم کی بناء پر نہ تو کسی رعایت کا مستحق سمجھا جائے اور نہ تنگ کیا جائے اور نہ کسی کا سکون چھینا جائے بلکہ قانون کی نظر میں تمام لوگ مساوی طور پر غیر جانبدارانہ رنگ میں پوری حفاظت کے حقدار ہوں گے۔“ حضرت مسیح موعود کی بعثت اور آپ کا مشن : ۱۸۳۵ء میں حضرت میرزاغلام احمد قادیانی (698)