تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 694 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 694

بھی نہ ہوتا اور اس کے انجام پائے بغیر حکومت کے مقابلہ میں ہی ناکامی ہوتی اسی لئے انہوں نے حکومت کے ساتھ تصادم کرنے سے انتہائی پہلو تہی کی۔“ ( الجہاد فی الاسلام طبع دوم صفحہ ۳۶۶) الجواب ۲۔قرآن مجید سے ثابت ہے کہ حضرت یوسف فرعونِ مصر کے تابع تھے۔وہ پہلے مصر میں خرید کردہ غلام کی حیثیت میں رہے۔پھر فرعون کے خزانوں پر مقرر ہوئے لیکن عمر بھر اس کے قانون کے ماتحت تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ ( سورة يوسف ) کہ حضرت یوسف اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون کے مطابق روک نہ سکتے تھے بجز اللہ کی خاص مشیت کے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت یوسف قانونِ شاہی کے تابع تھے۔نیز قرآن مجید میں جن انبیاء کے نام مذکور ہیں اُن میں سے صرف دو چار نبی داؤد، سلیمان، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وغیر ہم کو اپنی زندگی میں اقتدار نصیب ہوا۔سیحی، زکریا، شعیب وغیر ہم ظاہری اقتدار کے بغیر ہی رہے ہیں۔(۲۰) حضرت خضر اور حضرت مسیح کی زندگی سوال۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر کولمبی زندگی دی ہے تو کیا وہ حضرت عیسی کو لمبے عرصہ تک زندہ نہیں رکھ سکتا ؟ الجواب ،ا۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی قدرت کا سوال ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے مگر سوال تو یہی ہے کہ آیا اُس نے یہ چاہا ہے اس کا ثبوت درکار ہے؟ غیر احمدی علماء ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو جاری مانتے ہیں صرف اسی امر کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کومسیح موعود بنا سکے؟ بتائیے کیا خدا اس پر قادر ہے؟ الجواب ۲ - حضرت خضر کی زندگی کا عقیدہ بھی غلط اور خلاف قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے آیت وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے جملہ نبیوں کی وفات کا (694)