تفہیماتِ ربانیّہ — Page 672
الجواب - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو کسی کو کا فرنہیں بنایا۔جولوگ خود کافر بن گئے وہی کافر ہیں۔مسلمان کہلانے والوں کی حالت کے متعلق ہم گزشتہ فصلوں میں حوالجات درج کر چکے ہیں۔رسالہ ” آسمانی کڑک کے دیباچہ میں بھی لکھا ہے :- آج دین و مذہب مصائب کے نرغے میں ہے ،گلشن اسلام پامالِ خزاں ہونے کو ہے۔دنیاوی ابتلاء کا سلسلہ منازل ترقی پر ہے، مسلمان صعوبتوں اور کلفتوں کے آماجگاہ بنے ہوئے اطمینان و طمانیت قلبی سے محروم پڑے ہیں، حوادث و سوانح ، مصائب و آلام کے ہدف بنے ہوئے ہیں۔دنیا ان کے تباہ و برباد، نیست و نابود کرنے میں ساعی وکوشاں ہے۔ان کی مخالفت، معاندت، اور مخاصمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔غرضیکہ ہر سمت، ہر جہت ، ہر طرف سے ان پر مصائب کے ابر ٹوٹ پڑے ہیں۔۔۔مصائب و آلام مذہب سُن کر ان (مسلمانوں) کے قلوب بے قرار اور ان کی چشم اشکبار نہیں ہوتیں۔کمال اسلام کا زوال ، اور نور اسلام کا انطفاء ہوتا ہے مگر یہ آنکھ نہیں کھولتے ، ان کی چتون نہیں بگڑتی اور ان کے تیور میلے نہیں ہوتے ے وائے برما وائے برحال ما كفر دارد عار پر اسلام ما (کرک آسمانی صفحه ۱) جب حالات یہ ہیں کہ کفر بھی اِس اسلام سے عار کرتا ہے تو پھر حضرت پر کیا الزام ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو کا فرقرار دے دیا ہے؟ کیا تم حالات پر غور نہیں کرتے، کیا یہ زمانہ ایکار پکار کر ایک مصلح کو نہیں چاہتا؟ دین اسلام بے شک مکمل ہے لیکن مسلمان کہلانے والے اس کو مکمل صورت میں پیش نہیں کر رہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو اس زمانہ میں خدا کا قرنا ہیں ایمان لاویں اور اسلام کی اصل صورت کو ملاحظہ کریں۔غور کرو کہ اگر آج ایک نام نہاد مسلمان شخص کہے کہ میں سب کچھ مانتا ہوں لیکن حضرت علیہ السلام کو سچا نہیں مانتا تو کیا تم اس کو حقیقی مسلمان کہو گے؟ قرآن مجید نے حضرت عیسی کو نبی قرار دیا ہے اور قرآن مجید ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہے (672)