تفہیماتِ ربانیّہ — Page 651
پس ہر صورت میں اخبار بدر ۱۳ / جون کی عبارت جناب مفتی صاحب کے اپنے الفاظ ہیں۔حضرت اقدس کے نہیں ہیں۔لہذا ان کا وہ مفہوم لینا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصریحات بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے اپنے بیانات کے بھی خلاف ہے، درست نہیں۔اور اگر اسی مفہوم پر اصرار ہے ، تو جب اہلحدیث کسی صحابی بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کی تفسیر تک کو نہیں مانتے (الحدیث ۲ اکتو برا۱۹۳ء) تو جماعت احمدیہ پر اس خود ساختہ مفہوم کی بناء پر کیونکر اعتراض کر سکتے ہیں۔بہر حال مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ عذر بھی تار عنکبوت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا حلفیہ تحریری بیان ایک اعتراض جو اس موقع پر مولوی صاحب کیا کرتے ہیں ، وہ یہ ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے رسالہ تشحیذ الا ذبان میں لکھا ہے کہ اشتہار ۱۵ را اپریل کو مباہلہ کہنا دھوکہ اور فریب ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ یہ اشتہار دُعائے مباہلہ نہ تھا۔الجواب۔جوابا عرض ہے کہ مباہلہ کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ فریقین بد دعا کریں، مگر اس جگہ فریقین نے بددعا نہیں کی۔اس لئے مباہلہ واقع نہیں ہوا۔اور آج مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت مرزا صاحب میرے ساتھ مباہلہ کے نتیجہ میں مجھ سے پہلے فوت ہو گئے، واقعی سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔کیونکہ جب مولوی صاحب نے بالمقابل بددُعا ہی نہیں کی بلکہ اس طریق سے ہی انکار کر دیا ، تو مباہلہ واقع نہ ہوا۔ہاں اشتہار ۱۵ اپریل حضرت اقدین کی طرف سے دُعائے مباہلہ ضرور تھا۔اس فرق کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے رسالہ تفخیذ الا ذبان میں ذکر فرمایا ہے۔ذیل میں ہم سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایک تحریری بیان کی نقل شائع کرتے ہیں جو حضور نے ۱۶ / مارچ ۱۹۳۱ء کو تحریر فرما کر حافظ محمد حسن صاحب نائب ناظم انجمن اہل حدیث لاہور کے مطالبہ پر انہیں ارسال فرمایا اور وہ یہ ہے :- میں خدا کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں۔کہ مجھے کامل یقین ہے کہ اگر (651)