تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 59 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 59

وریں باب بلفظ شائع در ہر قوم تکلم واقع شد، اگر لفظ ابنا جائے محبوباں ذکر ( الفوز الكبير صفحه (۸) شده باشد چه عجب؟ یعنی قرآن میں ہر قوم کے شائع شدہ محاورہ کے مطابق کلام ہوا ہے پس اگر محبوب کی بجائے لفظ ابن آجائے تو ہر گز جائے تعجب نہیں۔“ پھر مولوی محمد رحمت اللہ صاحب مرحوم مہاجر مکی اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں :- فرزند عبارت از عیسی علیه السلام است که نصاری آنجناب را حقیقه ابن الله میدانند و اہل اسلام ہمہ آنجناب را ابن الله بمعنی عزیز و برگزیده خدا می شمارند" (ازالۃ الا و ہام صفحہ ۵۲۰) یعنی مسلمان مسیح کے لئے ابن اللہ بمعنی برگزیدہ مجھتے ہیں جو مجاز ہے۔اب اگر کوئی عقلمند اس مجاز اور استعارہ کو حقیقت پر محمول کرنا چاہے تو اس کی غلطی ہے۔خدا تعالی بیٹوں سے پاک ہے۔اس قسم کے الفاظ محض مجاز ا استعمال ہوتے ہیں۔(س) ایک انسان یہ پسند کرے گا کہ اس کے بھائی متعدد ہوں، بیٹے متعدد ہوں ، ماموں ایک سے زیادہ ہوں، مگر کوئی انسان یہ سُٹنے کی تاب نہیں رکھتا کہ اس کے باپ کئی ہیں۔بلکہ ہر بیٹا در حقیقت اپنے باپ کی نسبت سے مقام توحید پر کھڑا ہوتا ہے اور وہ اس میں ثانویت کو فرض بھی نہیں کر سکتا۔اسی طرح جب ایک انسان کامل موحد بن جاتا ہے تو گویا وہ مقام ولدیت پر آجاتا ہے۔اسی کی طرف آیت قرآنی فاذكروا الله گذكْرِ كُمُ اباد کہ میں اشارہ ہے اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود کے زیر بحث الہامات میں اشارہ ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے در حقیقت بیٹے ہیں۔کیونکہ یہ تو کلمہ کفر ہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ اسلئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچت کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔اسی مرتبہ کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کر کے فرمایا گیا ہے فاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ اشد ذكراً یعنی خدا کو ایسی محبت اور دلی جوش سے یاد کرو جیسا کہ بجه اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔اسی بناء پر ہر ایک قوم کی کتابوں میں آب یا پتا کے 59