تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 633 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 633

ہیں کہ اپنے کئے ہوئے بد اعمال کی وجہ سے جن کی سزا بھگتنا ان کو بھی یقینی ہے۔ہرگز کبھی موت کی خواہش نہ کریں گے۔باوجود اس بد اعمالی اور جسارت کے دعوئی نجات کیسا بڑا ظلم ہے۔“ ( تفسیر ثنائی جلد اصفحہ ۹۰) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جن کا انجام آتھم کی دعوت مباہلہ میں بلائے گئے لوگوں میں سے گیارہواں نمبر تھا۔ایک حیلہ بجو انسان ہیں اور اپنے واقفوں میں فرار کے لحاظ سے رؤ غان الثعلب اور تلون مزاجی میں تلون الحجز باء کے وصف سے مشہور ہیں۔چنانچہ فتنہ ارتداد ملکانہ کے زمانہ میں جب آپ کو اسلام کے نام پر دعوت عمل دی گئی تو آپ نے ہندو مسلم اتحاد کا بہانہ کر کے گریز اختیار کیا تھا۔اس وقت معزز اخبار مشرق گورکھپور نے خوب لکھا تھا کہ :۔ہمعصر وکیل امرت سر نے مولانا ثناء اللہ صاحب کی حرکت پر اظہار تاسف کیا ہے کہ آپ ہندو مسلم اتحاد کے لئے بیقرار ہیں اور کہتے ہیں کہ گاندھی کو کیا منہ دکھلاؤ گے۔ہماری رائے میں مولانا کو خدا کے سامنے شرمساری کی کوئی وجہ نہ ہوگی۔کیونکہ مولانا نے طبیعت اور مزاج ایسا ہی پایا ہے۔گھڑی میں کچھ ، گھڑی میں کچھ۔بہر حال یہ کام مولاناؤں کا نہیں ، خدا کا کام ہے۔خدا نے اپنا کام ہمیشہ ایسے لوگوں سے لیا ہے جو اکثر مولانا نہ تھے مگر مولانا گر تھے۔“ (مشرق ۲۹ / مارچ ۱۹۲۳ء) مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت مباہلہ پر بھی خاموشی اختیار کی اور مباہلہ کیلئے تیار نہ ہوئے۔لیکن جب مباحثہ میں دعوت مباہلہ کا ذکر آیا تو آپ نے عوام الناس یا بالفاظ دیگر سوط الجمہور سے ڈر کر ، ظاہر داری کے طور پر ، مباہلہ کے لئے آمادگی کا اظہار کر دیا۔بلکہ ایک تحریر بھی لکھ دی مگر اس تحریر کا حشر وہی ہو اج نقش بر آب کا ہوتا ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثہ مد کے حالات کتاب اعجاز احمدی میں ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ :- مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ دو درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین، یعنی میں اور وہ، یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مرجائے۔“ (اعجاز احمدی صفحہ ۱۴) طبع ثانی کے وقت مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری فوت ہو چکے ہیں۔(مؤلف) (633