تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 631 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 631

کی آخری کڑی تھی۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کی ابتداء سے آپ کے اور علماء بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے درمیان جاری تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور آپ کا طریق کار ہو بہونبیوں کی زندگی اور اُن کا طریق کار تھا۔آپ نے منہاج نبوت کے مطابق اپنے معاندین پر منقولی و معقولی دلائل سے اتمام حجت کرنے کے بعد اُن کو مباہلہ کی بھی دعوت دی۔آپ نے شروع ۱۸۹۷ء میں اپنی کتاب انجام آتھم میں ہندوستان بھر کے علماء ومشائخ کو نام بنام دعوت مباہلہ دی اور لکھا :- میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دُعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں مقابل آویں، ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا۔اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار۔“ (صفحہ ۶۷) بالآخر علماء کو برانگیختہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا :- د گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان ! کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو۔اور نہ تکفیر اور توہین چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔اور اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو۔آمین۔“ (صفحہ ۶۷) ان ہر دو عبارتوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی صداقت پر یقین تام اور مباہلہ کے ذریعہ سے فیصلہ کرنے کی زبردست تحدی عیاں ہے اور یہ خود حضور کی سچائی پر برہان قاطع ہے۔کیونکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ يَايُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ وَلَا يَتَمَتَّوْنَةَ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ آيد نهم (الجمعہ رکوع ۱ ) یعنی جو لوگ جھوٹے طور پر خدا کے دوست ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں وہ کبھی موت کی خواہش نہیں کر سکتے اور نہ میدانِ مباہلہ میں آسکتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل سطور فوق سے ظاہر ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کے حضور (631