تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 607 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 607

اشتہار دلاؤ الہ۔اب عقلاً دو صورتیں ممکن تھیں۔(۱) لوگ اشتہار دلا دیتے۔(۲) لوگ اشتہار نہ دلا سکتے۔اگر صُورت اول واقع ہوتی تو اس کا مرنا یقینی تھا، اور اندر میں صورت اس کی موت کے بعد محمدی بیگم کا حضرت کے نکاح میں آنا ضروری اور لازمی تھا۔اور اگر اشتہار نہ دلا سکتے تو پھر سلطان محمد کی عدم موت کے باعث نکاح نہیں ہوسکتا تھا۔پس فسخ یا تاخیر دورنگی کے لئے نہیں بلکہ اُس تحدی کی وجہ سے ہے، جس کا پورا کرنا ، یا نہ کرنا مخالفین کے اختیار میں تھا۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھول دیا گیا کہ سلطان محمد کی طرف سے تکذیب کا اشتہار ہر گز شائع نہ ہو سکے گا۔تو حضور نے صرف ایک پہلو کا ذکر فرمایا وَ هُو هذا - فرمایا :- یونس کی قوم کا واقعہ سب کو معلوم ہے۔کوئی شرط نہ تھی مگر پھر بھی تو بہ واستغفار سے وہ عذاب ٹل گیا۔اور یہاں تو صاف تو بی تُوبِ فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِتِ آگیا ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ تو بہ سے یہ سب باتیں ٹل جائیں گی۔اور احمد بیگ کی موت سے خوف اُن پر چھا گیا۔اُس نے پیشگوئی کے ایک حصہ کو ٹال دیا۔“ اخبار بدر ۱/۲۳ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۴) ہاں اس جگہ معترض پٹیالوی نے ایک اور سوال کیا ہے۔اور وہ یہ کہ شرط کو پورا کر دینے سے نکاح کا فسخ ہو جانا کیسے واقع ہوا۔شرط پوری ہونے سے تو نکاح ہو جانا چاہئے تھا۔مگر یہ اعتراض بھی دھوکہ ہے۔کیونکہ سلطان محمد کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح کے لئے علیحدہ علیحدہ شرط ہے۔جیسا کہ ہم تفصیلا لکھ چکے ہیں۔محمدی بیگم کے نکاح کے لئے سلطان محمد کی موت کی شرط ہے۔جو پوری نہ ہوئی۔اور سلطان محمد کے موت سے بچنے کے لئے تو بہ شرط ہے اور سلطان محمد نے موت سے بچنے کی اس شرط کو پورا کر دیا اور موت سے بچ گیا۔لہذا آخری مرحلہ کی شرط تحقیق نہ ہوئی۔پس معلوم ہو گیا کہ حضرت نے تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۳۳ میں جس شرط کے پورا ہونے کا ذکر فرمایا ہے وہ سلطان محمد کے بچنے کے نتیجہ پر منتج تھی، اور وہ نتیجہ پید اہو گیا۔لہذا معترض کا اِس جگہ اِذَا وُجِدَ الشَّرط فَاتَ الْمَشْرُوط کا مضحکہ خیز قول لکھنا (607)