تفہیماتِ ربانیّہ — Page 605
یہ خط ۱۹۱۳ ء کا ہے جس میں مرزا سلطان محمد صاحب کا صاف اقرار ہے کہ میں اب بھی حضرت مرزا صاحب کو نیک اور بزرگ سمجھتا ہوں اور پہلے بھی سمجھتا تھا۔ناظرین! آپ ان حالات پر نگاہ کریں جو اس پیشگوئی سے پہلے ان لوگوں کے تھے۔اور تصور کریں کہ یہ الفاظ وہ شخص لکھتا ہے جس کی بیوی کے متعلق یہ پیشگوئی ہے تو آپ کو یقین کرنا پڑے گا کہ یہ شخص بے شک تو بہ ورجوع کر چکا تھا۔اس خط کی اصلیت کو مولوی ثناء اللہ امرتسری نے بھی تسلیم کیا ہے اور خود معترض پٹیالوی نے بھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے الفاظ حسب ذیل ہیں وو -: مرز اسلطان محمد کا ایک خط شائع کرتے ہیں۔جس کا مضمون یہ ہے کہ میں مرزا صاحب قادیانی کو بزرگ جانتا ہوں۔اس خط کو اس دعوی کی سند پیش کیا کرتے ہیں کہ سلطان محمد دل سے مرزا صاحب کا معتقد ہو گیا تھا، اس لئے نہ مرا۔اس کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا صاحب کے اپنے بیانات کے سامنے یہ تحریر کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ممکن ہے مخالف نے بطور استہزاء یا معمولی اخلاقی نرمی سے یہ فقرہ لکھ دیا ہو۔( الہامات صفحہ ۶۷) معترض پٹیالوی نے لکھا ہے :۔آپ نے مرزا سلطان محمد شو ہرمحمدی بیگم کا خط مورحنہ ۲۱ مارچ ۱۹۱۳ نقل کیا ہے جس میں اس نے مرزا صاحب کی نسبت عام مصالحانہ خیالات ظاہر کئے ہیں۔“ (تحقیق صفحہ ۱۶۱) ظاہر ہے کہ یہ خط ، اور اس کے الفاظ ، نہ استہزاء ہیں، نہ عام مصالحانہ خیالات ہیں۔کیونکہ لکھنے والا وہ شخص ہے جس کی بیوی کا یہ قصہ ہے۔بہر حال اصلیت خط مسلّم ہے۔ہاں معترض پٹیالوی نے لکھا ہے کہ ۱۹۱۳ء میں خط لکھا اور موت سے پہلے ہی کیوں بیچ گیا۔(تحقیق صفحه ۱۷۴) ارے بندۂ خدا! ۱۹۱۳ ء کا خط تو خود پہلے زمانہ کے خوف کا ثبوت ہے۔نیز (605)