تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 595 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 595

ہر چہار حوالجات صاف بتا رہے ہیں کہ سلطان محمد اور اس کے خسر احمد بیگ کی موت کی پیشگوئی شرطی تھی، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تحریر فرمایا ہے وھو المطلوب۔نکاح، احمد بیگ اور سلطان محمد کی موت پر موقوف تھا! ہمارا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ محمدی بیگم کا حضرت کے نکاح میں آنا از روئے پیشگوئی صرف اسی صورت میں مقدر ہے جب احمد بیگ اور اس کا داماد پہلے موت کے گھاٹ اُتار دیئے جائیں۔اس دعویٰ کا ثبوت حسب ذیل ہے :- (الف) حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا ہے کہ : ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا۔اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا۔اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔“ (تبلیغ رسالت جلد ا صفحہ ۶۱) گویا حضور نے نکاح کو آخری مرحلہ قرار دیا ہے۔ایک اور جگہ حضور علیہ السلام نے لکھا ہے :- "إِنَّهُ يَرُدُّ بِنْتَ أَحْمَدَ إِلَيَّ بَعْدَ اهْلَاكِ الْمَانِعِيْنَ وَكَانَ أَصْلَ الْمَقْصُودِ الْاِهْلَاكَ وَتَعْلَمُ أَنَّهُ هُوَ المِلاک۔“ ( انجام آتھم بحوالہ تحقیق صفحه ۵۱) ترجمہ - اللہ تعالیٰ احمد بیگ کی لڑکی کو تمام روکنے والوں کو ہلاک کرنے کے بعد میری طرف لائے گا۔پیشگوئی میں اصل مقصود ہلاکت ہے، اور تو جانتا ہے کہ اسی پر مدار ہے۔" (ب) حضرت اقدس تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- يَموتُ بَعْلُهَا وَأَبُوهَا إِلى ثَلَاثِ سَنَةٍ مِنْ يَوْمِ النِّكَاحِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكَ بَعْدَ مَوْتِهِمَا وَلَا يَكُونُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْعَاصِمِينَ (کرامات الصادقین آخری سر ورق ) ترجمہ۔اس کا خاوند اور والد نکاح کے دن سے تین سال کے اندر مر جائیں گے اور پھر اس لڑکی کو ان دونوں کی موت کے بعد ) ہم تیری طرف لائیں گے۔اور ان میں سے کوئی اسے روک نہ سکے گا۔صاف ظاہر ہے کہ جب تک ہر دو موتیں واقع نہ ہو لیں وہ لڑکی حضرت کے نکاح میں 595