تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 571 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 571

غلط ہے کہ تم مومن بن جاؤ گے۔کیونکہ تم تو پھر شرارتوں کی طرف عود کرو گے۔“ ہر دو مثالوں سے واضح ہے کہ عارضی اور ناقص ایمان پر بھی اللہ تعالیٰ وعدہ عذاب بلکہ عذاب میں التواء کر دیتا ہے۔پس پانچواں معیار یہ ہے کہ حقیقی اور کامل ایمان کے علاوہ بسا اوقات ناقص اور عارضی ایمان سے بھی وعید میں التواء ہو جاتا ہے۔چھٹا معیار - وعیدی پیش گوئی خواہ معین قوم وشخص ، یا معین وقت، کیلئے ہو۔اس میں فی الجمله تخلف ممکن ہے۔یعنے اس وعید کا معین قوم یا معین وقت کے لئے ہونا شرائط تخلف کے تحقق کے باوجود اس کو ضروری الوقوع نہیں بنا دیتا، بلکہ پھر بھی اس کا ٹلنا جائز ہوتا ہے۔اس بیان کی اسلئے ضرورت پیش آئی کہ معترض پٹیالوی نے تحقیق لاثانی میں خلف الوعید کے مسئلہ میں ہتھیار ڈال کر اِس صورت پر خاص زور دیا ہے کہ معین و عید مل نہیں سکتا۔بلکہ ایک جگہ تو لکھا ہے :- ایسا خلف وعید منجانب اللہ وقوع میں آنا صریح تذلیل و تکذیب رسول ہے۔“ (تحقیق لاثانی صفحہ ۱۱۰) حالانکہ یہ بھی سراسر باطل ہے۔وعید اس معین قوم یا شخص کی تو بہ در جوع پر ہی تلا کرتا ہے اس لئے اس میں رسول کی تکذیب و تذلیل کیسے ہو سکتی ہے۔یہ تو محض وہم باطل ہے۔حضرت یونس کے واقعہ کے معین مدت اور معین قوم کے متعلق ہونے کے متعلق ہم ذکر کر چکے ہیں۔چند حوالجات اور ملاحظہ ہوں لکھا ہے :۔(۱) وَقِيلَ قَالَ لَهُمْ يُونُسُ إِنَّ جَلَكُمْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً فَقَالُوا إِنْ رَأَيْنَا أَسْبَابَ معترض پٹیالوی مسئلہ خلف الوعید کے متعلق لکھتا ہے : " وہ ایک علمی بحث ہے جس میں متکلمین کا اختلاف رائے بھی رہا ہے۔چونکہ اس رسالہ کا یہ مقصود نہیں۔اس لئے ہم اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے۔تحقیق صفحہ ۱۰۹) ایک دوسری جگہ عجیب ارشاد ہے۔لکھتے ہیں : عالمانہ بخشیں اور علمی نکات تحریر کرنے کی نہ خاکسار مؤلف کو قابلیت ہے نہ اس رسالہ کا تدعا ( تحقیق صفحه ۱۳۰) کیا اسی قابلیت پر کتاب کولا جواب بتارہے تھے؟ ابوالعطاء (571)