تفہیماتِ ربانیّہ — Page 555
صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین ، اور صحابہ کرام کی سخت تکذیب و تو ہین نہیں ہوتی ؟ که صرف دسواں حصہ جائیداد دے کر جو وہاں دفن ہوا بہشتی ہو گیا۔خواہ اعمال کی کچھ ہی حالت ہو۔“ (عشرہ صفحہ ۱۴۷) ناظرین کرام ! اس عبارت میں معترض نے ایک نہایت نا پاک افتراء کیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اس مقبرہ میں دفن ہونے والا صرف دسواں حصہ دینے سے بہشتی بن جائے گا خواہ اس کے اعمال کی کچھ ہی حالت ہو۔گویا وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی نظر میں تقویٰ اور طہارت کی تو کوئی قدر نہیں صرف مال کا دسواں حصہ لیکر آپ اس مقبرہ میں دفن کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔حالانکہ یہ صریح جھوٹ ہے کیونکہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیۃ میں جہاں اس مقبرہ کا ذکر فرمایا ہےوہاں تحریر کیا ہے :- (الف) تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو، اور محرمات سے پر ہیز کرتا ہو اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو ، سچا اور صاف مسلمان ہو۔(۴) ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں، اور کوئی مالی خدمت نہیں کرسکتا، اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔“ (صفحہ ۲۰) (ب) یادر ہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائداد منقولہ اور غیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا جاوے بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک 555