تفہیماتِ ربانیّہ — Page 553
اسلام کے لئے مامور کیا۔اس لئے ساری جماعت کا نظام آپ کے سپرد تھا اور آپ اس روپیہ کو اشاعت اسلام میں خرچ فرماتے تھے، اس میں اعتراض کیا ہے؟ اچھے کھانے منع نہیں ہیں، صحابہ نے کھائے ، نبیوں نے کھائے۔اچھے مکانوں میں رہتے رہے۔حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا واقعہ یاد کرو جو بِغَيْرِ حِسَابِ “ کے مصداق تھے۔درحقیقت یہ باتیں قابلِ اعتراض نہ تھیں بلکہ شریعت کے لحاظ سے جائز اور بعض صورتوں میں ضروری تھیں۔تا کہ شریعت کے متعلق جو افراط و تفریط کی راہ اختیار کی گئی ہے اس کو ڈور کیا جائے۔آپ لوگ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتری کے پس خوردہ کے عادی ہیں۔مولوی صاحب کی ایک تحریر جو انہوں نے ایک شیعہ کے جواب میں لکھی ہے ملاحظہ کر لیں۔لکھتے ہیں :۔”اچھا صاحب سنئے پلاؤ قورمہ کھانا،نوار کے پلنگ پرسونا ، وغیرہ تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔غور سے سنئے اگر آپ کے قرآن میں نہ ہو تو صحیفہ عثمانیہ میں ملاحظہ کیجئے۔قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِى اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ امَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيمَةِ نبی (علیہ السلام ) ! تم کہ دو کہ خدا کی پیدا کی ہوئی زینت اور پاکیزہ رزق رکس نے حرام کئے ہیں؟ تم یہ بھی کہہ دو کہ دنیا میں تو یہ مومنوں کے لئے مشترک ہیں آخرت میں خاص انہی کے لئے ہونگے۔56 اخبار اہلحدیث ۹ فروری ۱۹۱۲ ، صفحہ ۲ کالم ۳) جب شریعت ہی عینِ تصوف ہے تو اس شرعی اجازت، بلکہ مستحب کے بعد ، عمدہ کھانے یا عمدہ لباس کو حسب استطاعت استعمال کرنے سے (553)