تفہیماتِ ربانیّہ — Page 538
اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرمارہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ۔علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اُس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی۔اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چپکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارہ تھی۔تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی و الحمد لله على ذالک۔یہ وہ خواب ہے کہ تقریباً دو سو آدمی کو انہیں دنوں میں سنائی گئی تھی جن میں سے پچاس یا کم و بیش ہندو بھی ہیں کہ جوا کثر اُن میں سے ابھی تک صحیح وسلامت ہیں۔اور وہ تمام لوگ خوب جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں براہین احمدیہ کی تالیف کا ابھی نام ونشان نہ تھا اور نہ یہ مرکوز خاطر تھا کہ کوئی دینی کتاب بنا کر اس کے استحکام اور سچائی ظاہر کرنے کے لئے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جائے۔لیکن ظاہر ہے کہ اب وہ باتیں جن پر ا براہین کا شائع شدہ حصہ اس کتاب میں سے گویا ایک قاش ہی ہے اور باقی قاشیں آپ کے دامن میں ڈالی جانے کے معنے اور اور صورتوں میں اور دوسری تصانیف کے ذریعہ سے ان کا آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے جانشینوں کے ہاتھ سے اس کا شائع ہونا ہے۔(مؤلف) (538)