تفہیماتِ ربانیّہ — Page 481
پس جو الفاظ معترض پٹیالوی نے محض مغالطہ کی خاطر حضرت امام اعظم سے منسوب کئے ہیں وہ اُن کے نہیں ہیں لہذا ان پر مبنی اعتراض بھی باطل ہو گيا وهو المطلوب۔فقر و سوم - ملائکہ کے وجود سے انکار (۱۰) قوله ” مرزا صاحب ملائکہ کے وجود فی الخارج کے منکر ہیں اور ان کو ستاروں کی ارواح مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملائکہ زمین پر کبھی نہیں آتے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۰۶) اقول - معترض پٹیالوی نے اس بیان میں صریح مغالطہ دیا ہے۔حضرت مسیح موعود ملائکہ کو مانتے ہیں اور انہیں معترض کے مفہوم کے مطابق ہرگز ہرگز ارواح کواکب نہیں مانتے۔ہاں یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ حضور کے نزدیک از روئے قرآن مجید واحادیث ان کے اصلی وجود کے ساتھ ان کا زمین پر نزول نہیں ہوتا۔معترض نے چونکہ رسالہ توضیح مرام کے بعض حوالہ جات کو غلط طور پر ذکر کیا ہے اس لئے پہلے ہم اسی رسالہ کے اقتباسات درج کرتے ہیں۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- (الف) قرآن شریف نے جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھی اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا۔“ توضیح مرام صفحه ۳۷ طبع دوم ) (ب) "فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو اُن کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدا تعالیٰ اُن کی طرف سے قرآن مجید میں فرماتا (481)