تفہیماتِ ربانیّہ — Page 41
خرق عادت کا ظہور کسی عقلمند کو گمراہ نہیں کر سکتا۔لیکن کا ذب مدعی نبوت پر ظہور آیات نہیں ہو سکتا۔ورنہ وہ ہر صاحب عقل کو گمراہ کرنے کا موجب ہو گا ہے پس دعوی نبوت اور دعوالی الوہیت کی سزا میں فرق ہونا چاہئے تھا اور ہے۔لہذا فرعون یا کسی اور ہمچو قسم مدعی کربوبیت کا تذکرہ بے محل ہے اور ان کی مہلت کو وَلَوْ تَقَوَّلُ عَلَيْنَا کے بالمقابل پیش کرنا غلطی۔۲۳ سالہ معیارِ صداقت اور بعض نبیوں کا زمانہ ، مندرجہ بالا بیانات سے صاف ثابت ہو گیا کہ آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کا مطلب تفاسیر، لغت، عقائد اہلسنت ، اور واقعات کی تائید سے یہی ہے کہ مفتری کو تئیس سال کی مہلت نہیں مل سکتی۔اور آج تک کسی کا ذب مدعی الہام کو نہیں ملی۔اور نہ تا قیامت مل سکے گی۔آسمان وزمین کا ٹل جانا ممکن مگر خدا کا یہ نوشتہ نہیں مل سکتا۔اور نہ یہ قانون باطل ہو سکتا ہے۔معترض پٹیالوی نے اس معیار کی تردید میں دوسرا اعتراض بایں الفاظ ذکر کیا ہے کہ : ایسے ہی کئی صادق نبیوں کا زمانہ نبوت ۲۳ سال سے بہت کم ہے مثلاً حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہ السلام (عشرہ صفحہ ۲۰ حاشیه) الجواب - ایک دعوئی اور مطلوب کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل ہوا کرتے ہیں۔حضرت زکریا یحییٰ علیہما السلام کی صداقت پر کئی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔اگر ۲۳ سالہ معیار پر وہ پورے نہ اُتریں تو اس میں کیا حرج ہے۔باقی دلائل اثبات دعوٹی کے لئے کافی ہیں۔یادر ہے کہ صداقت کے گل دلائل بحیثیت مجموعی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں جمع ہیں۔باقی انبیاء اس خصوص میں آپ کے شریک نہیں۔اس لئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے لکھا ہے :- مَا مِنْ دَلِيلٍ يَدُلُّ عَلَى نُبُوَةٍ غَيْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِلَافَةِ غَيْرِهِمَا (الشَّيْخَيْنِ) إِلَّا وَالدَّلِيلُ عَلَى نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مدعی الوہیت اور مدعی نبوت میں یہی فرق نبر اس بحث خوارق میں بھی مذکور ہے۔(مؤلف) 41