تفہیماتِ ربانیّہ — Page 431
صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پوری نہیں ہوئی ؟ ہر گز نہیں ! بھلا جب قرآن مجید اس کو پورا قرار دیتا ہے تو کون مسلمان اس کا منکر ہوسکتا ہے؟ ان واقعات اور ایسے دیگر حالات سے ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے لئے یہ تو ضروری ہے کہ جب اس کے ظہور کا وقت ہے تو جن کے متعلق ہے ان کے حالات موجودہ سے مطابق ہو۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ سارے لوگ پھر ہمیشہ اسی حالت اخلاص و عقیدت پر قائم رہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی پیشگوئیوں کی جب کافروں، منافقوں بلکہ حیوانات و جمادات تک سے تصدیق کرا دیتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ کل بنے والا منافق آج اپنی حالت ایمانی میں پیشگوئی کی سچائی کا ذریعہ نہ بن سکے۔ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور حضرت اقدس کا تین سو تیرہ والی پیشگوئی کو اپنے اصحاب پر چسپاں کرنا بینہ دس ہزار قدوسیوں والی پیشگوئی کی طرح ہے۔بعد میں اگر ان میں سے کوئی مرتد ہو جاتا ہے تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ان معنوں کی مصدق وہ حدیث بھی ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ اللهَ يُؤَيْدُ هَذَا الدِّينَ بِالرّجُلِ الْفَاجِرِ کہ بھی اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایک فاجر کے ذریعہ بھی کر دیتا ہے۔پس اگر ان تین سو تیرہ اصحاب میں سے بعد میں کوئی شخص لغزش کھا جاتا ہے تو اس سے نفس پیشگوئی پر کوئی حرف نہ آئے گا۔حضرت مسیح موعود نے ان کی حالت موجودہ پر فقرہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفا ر کھتے ہیں چسپاں کیا ہے اور اسی ظاہری حالت کے لحاظ سے حضور نے اس پیشگوئی کا ان کو مصداق قرار دیا ہے چنانچہ ” جس کو اللہ بہتر جانتا ہے“ کا فقرہ بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔گویا یہ پیشگوئی اسوقت کے لحاظ سے اور ان لوگوں کی ظاہری حالت کے لحاظ سے تھی۔اور اس صورت میں اس کے پورا ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔باقی ان میں سے بعض کا بعد میں مرتد ہو جانا یہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ بھی آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے۔یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں اپنے اصحاب میں سے بعض مخلصین کا ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا :- وو عزیزو! اپنے سلسلہ کے بھائیوں سے جو میری اس کتاب میں درج ہیں با ں شخص کے کہ بعد اس کے خدا تعالیٰ اس کو ردّ۔431۔