تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 425 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 425

دیں بجز اس کے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیں بتادیں کہ اگر مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے صحتیاب ہونے کی نسبت الہام مذکورہ بالا ہو چکا تھا تو پھر یہ الہامات مندرجہ ذیل جو پر چہ اخبار بدر اور الحکم میں شائع ہو چکے ہیں کس کی نسبت تھے۔یعنے کفن میں لپیٹا گیا۔۴۷ برس کی عمر۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس نے اچھا ہونا ہی نہ تھا۔اِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سِهَا مُهَا۔یعنی موتوں کے تیریل نہیں سکتے۔واضح ہو کہ یہ سب الہام مولوی عبد الکریم صاحب کی نسبت تھے۔ہاں ایک خواب میں انکو دیکھا تھا کہ وہ صحتیاب ہیں۔مگر خوا ہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں۔اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور بھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے۔اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیا دت عمر ہوتی ہے۔یہ ہے حال ان مولویوں کا جو بڑے دیانت دار کہلاتے ہیں۔“ ( تتمہ حقیقة الوحی صفحہ ۲۶) اب اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔ان بیانات سے معترض کا یہ الزام بھی باطل ہو گیا کہ نعوذ باللہ حضرت اقدس کے الہامات میں سچ اور جھوٹ ہر دو کی آمیزش ہوتی تھی۔کیونکہ امر متنازع فیہ میں الہامات واضح طور پر حضرت مولوی صاحب کی وفات پر دلالت کر رہے ہیں اور اس کے خلاف ایک بھی الہام نہیں۔پس ابن صیاد کو حضرت مسیح موعود سے کچھ نسبت نہیں۔ھے چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔چونکہ معترض بار بار ابن صیاد کا ذکر کرتا ہے اسلئے اس جگہ یہ بتادینا مناسب ہوگا کہ ابن صیاد کا اعتراف آمیزش ہی اس کی بطالت کا گواہ ہے۔درحقیقت وہ محض لے خواب تعبیر طلب ہوتی ہے۔اس کی تعبیر واقعات سے کی جاتی ہے۔آنحضرت نے رویا میں حضرت عائشہ کو دیکھا۔جبرائیل نے کہا یہ تیری بیوی ہوگی۔حضور فرماتے ہیں ان یکن من عند الله يمضہ اگر یہ خدا کی طرف سے ہوگی تو پوری ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود نے اس خواب سے استنباط بشارت کیا تھا جس پر معترض بضد کر رہا ہے حالانکہ الہامات اور واقعات نے اس کی صحیح تعبیر بتادی اور حضرت نے اس کی تصریح فرما دی۔هل بقى بعد ذالك موضع شك؟(مصنف) (425)