تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 418 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 418

ہوتے ہیں۔جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں اور جب حد سے زیادہ ان کوڈ کھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کا نشان قریب ہے بلکہ دروازہ پر۔کیونکہ یہ وہ قوم ہے کہ کوئی اپنے پیارے بیٹے سے ایسی محبت نہیں کرے گا جیسا کہ خدا ان لوگوں سے کرتا ہے۔جو دل و جان سے اس کے ہو جاتے ہیں وہ ان کے لئے عجائبات کام دکھلاتا ہے اور ایسی اپنی قوت دکھلاتا ہے کہ جیسا ایک سوتا ہو اشیر جاگ اُٹھتا ہے۔خدا مخفی ہے اور اس کے ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہیں۔وہ ہزاروں پردوں کے اندر ہے اور اس کا چہرہ دکھلانے والی یہی قوم ہے۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے یہ سراسر غلط ہے۔بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے۔بھی وہ ان کی دعائیں قبول کر لیتا ہے اور بھی وہ اپنی مشیت ان سے منواتا ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اس سے منوانا چاہتا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابت دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضاء وقدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِن الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَيَّرِ الصَّبِرِينَ ) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ 0 پس ان دونوں آیتوں کو ایک جگہ پڑھنے سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ دعاؤں کے بارے میں کیا سنت اللہ ہے اور رب اور عبد کا کیا با ہمی تعلق ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸-۱۹) (418)