تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 416 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 416

ہر دُعا ضرور قبول ہوتی ہے قبولیت کی صورتیں شاید یہ عنوان آپ کو عجیب معلوم ہوگا۔اور ایسا آپ گذشتہ بیان میں عدم قبولیت دعا کے ساتھ ظاہری صورت کی قید پڑھ کر بھی منتخب ہوں گے۔لیکن در حقیقت یہ تعجب کی بات نہیں۔اصلیت یہی ہے کہ کوئی بھی دعا جو درد دل اور جذب پر مشتمل ہورڈ نہیں ہو سکتی خواہ اس کا کرنے کہ پر والا نبی ہو یا ولی۔کس طرح سے ممکن ہے کہ ارحم الراحمین خدا بندہ کی گریہ وزاری اور آہ و بکا کو محض رائگاں بنا دے۔لیکن بایں ہمہ یہ بھی درست ہے کہ ہر دعا اپنی ظاہری صورت پر پوری ہونی ضروری نہیں۔ان دونوں بیانات میں تطبیق سمجھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل حدیث غور سے پڑھئے۔حضور فرماتے ہیں :- " مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو الله بِدُعَاءٍ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ فَإِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِمَّا أَنْ يُدَّ خَرَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يُكَفِّرَ عَنْهُ مِنْ ذُنُوبِهِ بِقَدَ رِمَا دَعَا۔“ ترجمہ - کوئی بندہ اللہ سے کوئی دعا نہیں کرتا مگر وہ اس کے لئے منظور کی جاتی ہے پس یا تو وہ مطلوب اس کو جلد دنیا میں دیا جاتا ہے یا وہ اس دعا کرنے والے کے لئے آخرت میں بطور ذخیرہ جمع کی جاتی ہے یا پھر اس کے گناہ بقدر دعا معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“ (ترمذی ابواب الدعوات جلد ۲ صفحہ ۲۰۰) گویا دعا تو ہر ایک منظور ہوتی ہے مگر اس منظوری کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔کبھی وہ چیز بعینہ دے دی جاتی ہے اور کبھی اس دعا کی منظوری کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ آخرت میں اجر ملے گا۔یا بندہ کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔بہر حال اس صورتِ حال کو مد نظر رکھ کر یہ کہنا کہ کوئی بھی دعار نہیں ہوتی بالکل درست ہے۔اور ظاہری صورت کو زیر نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ انبیاء کرام کی بعض دعا ئیں بھی شرف قبولیت حاصل نہیں کرسکتیں، بھی ٹھیک ہے۔ولولا الاعتبارات لبطلت الحكمة - اس حدیث کے ماتحت ہم اس امر کے قائل ہیں کہ ہر ایک دُعا مقبول ہوتی ہے لیکن جس طرح (416)