تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 334 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 334

نعوذ باللہ اس جھوٹ اور دھو کے منسوب کرنے کا مدعی ہے۔اگر آپ غور فرمائیں گے کہ دنیا کے فرزند ابنیاء سے ایسا کیوں کرتے رہے تو آپ کو اقرار کرنا پڑے گا کہ اس دلگد از حقیقت کی کہ میں صرف ایک راز ہے اور وہ یہ کہ چونکہ منکرین خود جھوٹ اور دھوکہ کے عادی ہوتے ہیں اسلئے وہ نبیوں پر بھی یہی بدگمانی کرتے ہیں ع یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار ہمارے مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں رکھتے اسلئے یہ سلوک کر رہے ہیں لیکن جن کو ماننے کا وہ دعوی کرتے ہیں ان کے متعلق بھی ان کے ایسے ہی عقائد ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ان کا خیال ہے کہ انہوں نے تین مرتبہ کذب بیانی (ثلاث کذبات) کی ہے۔حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، یوسف، موسیٰ اور دیگر انبیاء کے متعلق بھی کئی قسم کے مکروہ افعال کو تسلیم کرتے ہیں۔اب اگر یہ لوگ حضرت مسیح موعود کو گالیاں دیں تو جائے تعجب نہیں۔آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا اور دھو کہ باز کہیں تو ئی بات نہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- مجھ میں وہ یقین اور بصیرت اور معرفت کا نور پیدا کیا جو مجھے اس تاریک دنیا سے ہزاروں کوس دُور تر کھینچ کر لے گیا۔اب اگر چہ میں دنیا میں ہوں مگر دنیا میں سے نہیں ہوں۔اگر دنیا مجھے نہیں پہچانتی تو کچھ تعجب نہیں۔کیونکہ ہر ایک چیز جو بہت دُور اور بہت بلند ہے اس کا پہچاننا مشکل ہے۔میں کبھی امید نہیں کرتا کہ دنیا مجھ سے محبت کرے۔کیونکہ دنیا نے کبھی کسی راستباز سے محبت نہیں کی۔مجھے اس سے خوشی ہے کہ مجھے گالیاں دی گئیں ، دجال کہا گیا ، کافر ٹھہرایا گیا۔کیونکہ سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی کو کافر اور دجال کہ کر مغضوب علیہم بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے۔“ ( نزول اسیح صفحہ ۳۶) اس فصل میں معترض پٹیالوی نے جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ بزعم خویش حضرت اقدس کی طرف دس جھوٹ منسوب کئے ہیں لیکن ساتھ ہی تسلیم کرتا ہے کہ :۔(334)