تفہیماتِ ربانیّہ — Page 328
(۸) الهام اَلْحَقُّ مِنْ رَبَّكَ نفس پیشگوئی کے متعلق ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔چنانچہ خود حضرت مرزا صاحب کا اس کو بقول معترض پیٹیالوی عظمت و شوکت سے بیان کرنا “ اس امر کا زبردست ثبوت ہے۔شیطانی کلام میں عظمت و شوکت کہاں؟ اور خودتراشیدہ اور افتراء میں قوت و طاقت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟ حضرت مسیح موعود کا اس کو نہایت یقین اور وثوق سے پیش کرنا ہی آپ کی سچائی کا زبردست ثبوت ہے۔العام الْحَقُّ مِنْ رَبَّكَ کے مطابق یہ پیشگوئی بہت واضح طور پر پوری ہوگئی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی اعلان فرمایا۔جیسا کہ دسویں فصل میں مفصل مسطور ہے فلا اعتراض۔(۹) يَا أَحْمَدُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ کو بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ضمیمہ انجام آتھم میں محمدی بیگم کے نکاح پر بھی چسپاں کیا ہے اور یہ کوئی قابل اعتراض نہیں۔کیونکہ اس سلسلہ میں تمام الہامات مشروط ہیں۔پس اندریں صورت یہ الہام بھی مشروط ہوگا۔اور یہ بھی اسی شرط کے مطابق پورا ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کی گئی تھی۔لہذا اسکوافتراء قرار دینا ایک نا پاک مُجھوٹ ہے۔دوسرے اس الہام کے معنے عربی قواعد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسب ذیل تحریر فرماتے ہیں :- ”اے احمد اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔اے آدم اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔یعنی ہر ایک جو تجھ سے تعلق رکھنے والا ہے گو وہ تیری بیوی ہے یا تیرا دوست ہے نجات پائے گا اور اسکو بہشتی زندگی ملے گی اور آخر بہشت میں داخل ہوگا۔“ (اربعین نمبر ۳ صفحہ (۲۵) گویا اس الہام میں دونوں معنی ہیں۔اگر ان آخری معنوں میں لو جو اپنے اندر عمومیت کا رنگ لئے ہوئے ہیں تو تمہارے نزدیک بھی کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا اور اگر اوّل الذکر معنوں میں لو تو تب بھی کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔کیونکہ اس صورت میں حسب بیان حضرت اقدس وہ شرطی الہام تھا جو اپنی شرط کے مطابق پورا ہوا۔(328)