تفہیماتِ ربانیّہ — Page 312
رہا تھا کہ ملک الموت نے اس کا کام تمام کر دیا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵ و حاشیہ ) اعجازی کلام اور قرآن مجید ایک مقام پر معترض پٹیالوی پر فریب ٹسوے بہاتا ہؤ الکھتا ہے :۔یہ بات غیر مذاہب والوں کے لئے بڑے اعتراض کی گنجائش رکھتی ہے کہ ۱۳۰۰ برس میں تو قرآن مجید کا مثل نہ ہو سکا۔آج مسلمانوں میں سے ہی ایک شخص اپنے ہی کلام کو قرآنی تحدی کے طور پر پیش کرتا ہے۔گویا قرآن مجید کا نظیر ممکن ہو گیا۔الغ“ (عشرہ صفحہ ۶۸) الجواب - اسلام کے اتنے ہمدرد و غمخوار ہونے کا دعوئی مگر کذب بیانی دن رات کا شیوه ؟ یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں ہے ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ اَكَ تَفَرُّقِ تم کو اگر واقعی قرآن مجید کا پاس ہوتا تو بیبیوں آیات کو منسوخ قرار دے کر قرآن کو مور وطعن نہ بناتے۔اگر واقعی تم میں قرآن مجید کی محبت ہوتی تو ایسا گندہ نمونہ دنیا کو نہ دکھلاتے۔سچ یہی ہے کہ اب تم میں سے قرآن اُٹھ گیا ہے اور صرف الفاظ باقی ہیں۔لیجئے پڑھئے :- (1) ”سچی بات یہ ہے کہ ہم میں سے قرآن مجید بالکل اُٹھ چکا ہے۔فرضی طور پر ہم قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں مگر واللہ دل سے اسے معمولی اور بہت معمولی اور بیکار کتاب جانتے ہیں۔“ ( اخبار اہلحدیث ۱۴ رجون ۱۹۱۲ء صفحہ ۶ بحوالہ کرزن گزٹ ) (۲) اب اسلام کا صرف نام ، قرآن کا فقط نقش، باقی رہ گیا ہے۔مسجد میں ظاہر میں تو آباد ہیں لیکن ہدایت سے بالکل ویران ہیں۔علماء اس اُمت کے بدتر اُن کے ہیں جو نیچے آسمان کے ہیں۔انہیں سے فتنے نکلتے ہیں انہیں کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔“ ( اقتراب الساعة صفحه ۱۲ ) پس آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کے لئے قرآن مجید کو آڑ بنا کر عوام کو متنفر کرنا چاہتے ہیں۔مگر کیا ابھی دنیا میں ایسے بے وقوف ہیں جو اس دھو کہ میں آجا ئیں؟ اور ا غلط ! اپنے کلام کو نہیں بلکہ خدا سے اعجاز یافتہ کلام کو پیش کرتا ہے۔(مؤلف) ، قرآنی تحاری دائمی ہے مگر حضرت کے اعجازی کلام پر تحری کے لئے مدت کی تعیین ہے۔کما مر (مؤلف) (312)