تفہیماتِ ربانیّہ — Page 299
ہے حالانکہ ۹۰ صفحہ کی کتابت اور چھپوائی کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے۔مگر یہ سب کچھ اس صورت میں ہوتا جب نصرت الہی یاوری کرتی لیکن جب آسمان پر ہی یہ فیصلہ ہو چکا ہو کہ یہ لوگ اعجاز احمدی کی مثل لانے پر قادر نہ ہوں کیونکہ حضرت اقدس نے فرمایا تھا فَإِنْ آكَ كَذَابًا فَيَأْتِي بِمِثْلِهَا وَإِنْ لَكَ مِنْ رَّبِّي فَيُغْشَى وَيُثْبَرَ هذَا قَضَاءُ اللهِ بَيْنِي وَبَيْنَهُمُ لِيُظْهِرَ ايَتَهُ وَمَا كَانَ يُخْبِرُ ( اعجاز احمد کی صفحه ۴۴) ترجمہ۔اگر میں جھوٹا ہوں تو ثناء اللہ اس قصیدہ کی مثل بنالائے گا اور اگر میں اپنے رب کی طرف سے ہوں تو اس کے دل کو غیمی کر دیا جائے گا اور اس کو مشل لانے سے روک دیا جائے گا۔یہ میرے اور ان کے درمیان خدا کا فیصلہ ہے تاکہ وہ اپنا نشان اور پیشگوئی پوری کرے۔“ تو پھر کس طرح ان کے لئے ممکن ہوتا کہ وہ اعجاز احمدی کی مثل بنا سکتے۔پس اعجاز احمدی ایک گھلا کھلا معجزہ ہے اور اللہ تعالی کا ڈر رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا نشان ہے ے صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار لَوْنَشَاءُ لَقَلْنَا مِثلَ هَذَا معترض پٹیالوی عاجز آکر لکھتا ہے :- اور پھر اگر یہ در در اختیار کیا بھی جاتا تو کیا مرزا اور مرزائیوں نے اپنی لن ترانیوں سے باز آ جانا تھا۔بس میعاد کے اندر جواب نہ ملا تو اعجاز ، اعجاز ، کا غل مچا دیا۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) اس عبارت سے مخالفین کا عجز نہایت واضح طور پر ثابت ہوگیا۔معترض کو یہ تو مسلم ہے لے اور یوں تو تین دن میں اتنی کتاب چھپ سکتی ہے۔(مؤلف) سے گویا واقعی طور پر محال نہ تھا بلکہ ظاہر میں ممکن تھا صرف ذ را در دسر کرنا پڑتا۔اچھا پھر کس نے روکا تھا ؟ تمہارے دل بہت چاہتے تھے کہ مثل لائیں مگر طاقت بالا نے روکا۔سے کیا میعاد کے بعد جواب مکمل شائع ہوا۔ذرا اس کا نام تو لے دیں۔(مؤلف) (299)